گورنر سندھ کی تبدیلی،استعفیٰ نہیں دیں گے،عوام کے حق کے لیے آواز بلند کرتے رہیں گے، ایم کیو ایم

خدمتِ خلق فاؤنڈیشن کی بنیاد 1979 میں رکھی گئی اور اس کی تاریخ ایم کیو ایم کی سیاسی تحریک سے بھی قدیم ہے

               
March 14, 2026 · قومی

متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان نے گورنر سندھ کی تبدیلی پر وفاقی حکومت کی جانب سے اعتماد میں نہ لینے کو زیادتی قرار دیا ہے۔

ایم کیو ایم پاکستان کے زیرِ اہتمام خدمتِ خلق فاؤنڈیشن نے فیڈرل بی ایریا میں سالانہ امدادی پروگرام کا انعقاد کیا، جس میں چیئرمین اور وفاقی وزیر تعلیم ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی، وفاقی وزیر صحت سید مصطفی کمال، مرکزی رہنما ڈاکٹر فاروق ستار، انیس قائم خانی، سید امین الحق، کیف الوریٰ اور دیگر اراکین نے شرکت کی۔

تقریب سے خطاب میں ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ خدمتِ خلق فاؤنڈیشن کی بنیاد 1979 میں رکھی گئی اور اس کی تاریخ ایم کیو ایم کی سیاسی تحریک سے بھی قدیم ہے۔ انہوں نے شہر میں بے لگام ہیوی ٹریفک، زمینوں پر قبضے اور انصاف میں تعصب کے مسائل پر بھی تشویش ظاہر کی۔

ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ کراچی میں اعلیٰ تعلیم کے لیے ایمرجنسی کی ضرورت ہے اور نئی یونیورسٹیوں کے قیام میں تاخیر شہر کے مستقبل کے لیے نقصان دہ ہے۔ مردم شماری اور حالیہ سیاسی تبدیلیوں پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 2023 کی مردم شماری میں پہلے 30 لاکھ آبادی کم کی گئی اور بعد میں ایم کیو ایم کی جدوجہد سے 70 لاکھ اضافہ کیا گیا۔

گورنر کی تبدیلی پر انہوں نے کہا کہ ہمیں اعتماد میں نہیں لیا گیا، مگر کامران ٹیسوری صاحب باوقار طریقے سے گورنر ہاؤس چھوڑ کر گئے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس بار استعفیٰ دینے یا وزارتیں چھوڑنے کا ریکارڈ خراب نہیں کریں گے۔

ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ ایم کیو ایم کا پروگرام امداد بانٹنے کے لیے نہیں بلکہ شہر کے سفید پوش عوام کی عزتِ نفس کی بحالی کے لیے ہے اور ایم کیو ایم ہر مشکل گھڑی میں اپنے عوام کے ساتھ کھڑی ہے۔