مجتبیٰ خامنائی:حقیقت یا افسانہ؟نئے ایرانی سپریم لیڈر کی روپوشی نے امریکہ کو چکرا دیا

وہ اپنی تقرری کے تقریباً ایک ہفتے بعد بھی پسِ منظر میں ہیں

               
March 15, 2026 · امت خاص

 

مجتبی خامنائی اصل میں کون ہیں اور کہاں ہیں، یہ سوال اس وقت آبنائے ہرمز سے آگے واقع پوری دنیا کے لیے ایک معمہ بن چکا ہے۔ بالخصوص امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی توجہات بڑی شدت سے اس پراسرار شخصیت پر مرکوز ہیں جنہیں سید علی خامنائی کے بعد ، مبینہ طور پر، ایران کا نیا سپریم لیڈر منتخب کیا گیا ہے۔

امریکی نشریاتی ادارے نے انہیں سائے میں پوشیدہ ایک لیڈر قرار دیا ہے۔اس کا کہنا ہے کہ ایران کا نیا سپریم لیڈر ابھی تک منظرِ عام پر نہیں آیا، اور شاید نظام کو اس کی ضرورت بھی نہیں۔

امریکی خبر رساں ادارے کے مطابق، ایران کے سپریم لیڈر کے طور پر اپنی تقرری کے تقریباً ایک ہفتے بعد بھی، مجتبیٰ خامنائی پسِ منظر میں ہیں۔ ایرانیوں کو جمعرات کے روز پہلی بار ان کی سوچ کا اندازہ ہوا، جب سرکاری ٹیلی ویژن پر ان سے منسوب ایک طویل بیان سنایا گیا۔ اس کے بعد آنے والا دن بطور لیڈر ان کا پہلا جمعہ اور ‘یومِ القدس’ بھی تھا۔ ماضی کی روایت کے مطابق اس موقع پر ایران کے سپریم لیڈر عوامی سطح پر نمودار ہوتے ہیں لیکن مجتبیٰ سامنے نہیں آئے۔

انہیں ملک کا اعلیٰ ترین رہنما نامزد ہوئے ایک ہفتہ دن گزر چکا ہے، لیکن اب تک نہ انہیں دیکھا گیا ہے اور نہ کسی نے ان کی آواز سنی۔

صورتحال سے باخبر ایک ذریعے نے بتایا کہ مجتبیٰ خامنائی دو ہفتے قبل امریکہ اور اسرائیل کی بمباری مہم کے پہلے ہی دن زخمی ہو گئے تھے۔ اس حملے میں ان کا پاؤں فریکچر ہوا، بائیں آنکھ پر چوٹ اور چہرے پر معمولی زخم آئے تھے۔ یہ وہی فضائی حملوں کی لہر تھی جس میں ان کے والد (علی خامنائی) اور ایران کے اعلیٰ فوجی کمانڈر ہلاک ہوئے تھے۔

سایوں میں موجود اس رہنما نے امریکیوں کو الجھا اور چکرا دیا ہے۔ایرانی حکومت کے حامی مذہبی رہنماؤں اور علما نے منبروں سے پیروکاروں پر زور دیا ہے کہ وہ ان سے وفاداری کا عہد کریں۔ بااثر عالمِ دین محمود کریمی نے یہاں تک کہہ دیا کہ ان کی شخصیت کے بارے میں یہی کافی ہے کہ کسی نے انہیں پہلے کبھی نہیں دیکھا، یعنی ان کی روپوشی ایک خوبی کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔

دوسری طرف، سوشل میڈیا پر مجتبیٰ خامنائی کی ایسی تصاویر گردش کر رہی ہیں جن میں انہیں اقتدار کی کرسی پر بیٹھے ایک “کارڈ بورڈ کٹ آؤٹ” (گتے کا ڈھانچہ) کے طور پر دکھایا گیا ہے، اور ان کے نامعلوم مقام کے بارے میں میمز (memes) بنائی جا رہی ہیں۔

نئے لیڈر کی مستند وڈیو فوٹیج اس قدر کم ہے کہ سرکاری میڈیا چینلز ان کی حمایت بڑھانے کے لیے مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ وڈیوز کا سہارا لے رہے ہیں۔ ان وڈیوز میں نئے لیڈر کو بڑے ہجوم سے خطاب کرتے ہوئے یا اہم مواقع پر اپنے والد کے ساتھ کھڑے دکھایا گیا ہے۔وہ مناظر جو حقیقت میں کبھی پیش ہی نہیں آئے۔ تہران میں ایک شخص نے طنزیہ طور پر کہاکہ وہ اسے ‘اے آئی سپریم لیڈر’ (AI Supreme Leader) پکار رہے ہیں۔

امریکی میڈیا نے سوال اٹھایا ہے کہ کیا اداروں کی اہمیت لیڈر سے بڑھ گئی ہے؟کچھ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تہران میں اس وقت سب سے اہم چیز سپریم لیڈر کا نظر آنا نہیں بلکہ ان کے ماتحت اداروں کا اتحاد ہے۔ طاقتور سیکیورٹی ادارے، جیسے سپاہِ پاسدارانِ انقلاب، مجتبیٰ کی موجودگی یا عدم موجودگی کے باوجود جنگی حکمت عملی چلا رہے ہیں۔

ایک مبصر کے مطابق، مجتبیٰ کے بجائے اب یہ عناصر (فوجی قیادت) ایران میں اصل طاقت کے حامل ہوں گے، چاہے وہ آخر کار منظرِ عام پر آ جائیں اور ان کے زخم بھی بھر جائیں۔ فی الحال حکومت کو نئے لیڈر کو کیمروں کے سامنے لانے کی کوئی جلدی نہیں ، کیونکہ وہ ان مقاصد کو پورا کر رہا ہے جن کی حکومت کو ضرورت ہے۔ فی الحال ان کا ٹھکانہ ایک راز ہے، اور ان کے بہت کم پیروکار یہ پوچھ رہے ہیں کہ ایسا کیوں ہے۔

مجتبیٰ خامنائی کی غیر موجودگی صرف ان کے زخموں کی وجہ سے نہیں، بلکہ یہ حفاظتی حکمت عملی کا حصہ بھی ہو سکتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کا موجودہ نظام ایک ایسے موڑ پر ہے جہاں اسے ایک مضبوط چہرے سے زیادہ نظریاتی تسلسل کی ضرورت ہے۔

سرکاری میڈیا انہیں ایک پراسرار اور طاقتور رہنما کے طور پر پیش کر رہا ہے لیکن”ایران میں سچائی ہمیشہ پردوں کے پیچھے چھپی ہوتی ہے”۔

تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ مجتبیٰ کی گوشہ نشینی نے سپاہِ پاسدارانِ انقلابِ اسلامی کو مزید بااختیار بنا دیا ہے۔ اب فیصلے کسی ایک فرد کے بجائے ایک طاقتور عسکری کونسل کے ذریعے کیے جا رہے ہیں۔ یہ تبدیلی ایران کی خارجہ پالیسی اور علاقائی تنازعات میں مزید سختی پیدا کر سکتی ہے۔

فی الحال، وہ ایک ایسے لیڈر ہیں جو ڈیجیٹل دنیااور پراپیگنڈہ ویڈیوز میں تو موجود ہیں، لیکن زمین پر ان کا وجود تاحال ایک معمہ ہے۔

ایران اس وقت ایک ایسی جنگی صورتحال میں ہے جہاں خاموشی کو بھی ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔

امریکہ اور اسرائیل نے ہر نئے رہبر اعلی کو قتل کرنے کے عزائم ظاہر کیے ہیں، لیکن علی خامنائی کے بعد پہلے ہی قدم پر سراغ کھو گیا۔

کیامیڈیا پر موجود ان کی تصویر حقیقی ہے، اب کوئی اس کا بھی یقینی جواب نہیں دے سکتا۔