سر میں زیادہ تیل لگانا فائدہ مند یا نقصان دہ؟
بالوں کو زیادہ تیل نہیں بلکہ مناسب مقدار میں تیل کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر سر میں ضرورت سے زیادہ تیل لگا لیا جائے تو اس سے سر کی جلد کے مسام بند ہو سکتے ہیں۔
بالوں کی دیکھ بھال سے متعلق ایک عام خیال یہ ہے کہ جتنا زیادہ تیل سر میں لگایا جائے گا، بال اتنے ہی مضبوط اور صحت مند ہوں گے۔ تاہم ماہرین کے مطابق یہ تصور مکمل طور پر درست نہیں ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بالوں کو زیادہ تیل نہیں بلکہ مناسب مقدار میں تیل کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر سر میں ضرورت سے زیادہ تیل لگا لیا جائے تو اس سے سر کی جلد کے مسام بند ہو سکتے ہیں۔ مسام بند ہونے کی صورت میں بالوں کی جڑوں تک ہوا نہیں پہنچ پاتی جس کے باعث خشکی، خارش اور بعض اوقات بال گرنے جیسے مسائل بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔
طبی ماہرین کے مطابق زیادہ تیل بالوں میں مکمل طور پر جذب نہیں ہوتا بلکہ بالوں کی سطح پر ہی رہ جاتا ہے، جس سے بال چپچپے اور کمزور محسوس ہونے لگتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق بالوں میں تیل لگانے کا درست طریقہ یہ ہے کہ تھوڑی مقدار میں تیل لے کر اسے ہتھیلیوں میں ہلکا سا گرم کر لیا جائے اور پھر انگلیوں کی مدد سے سر کی جلد پر نرمی سے مساج کیا جائے۔ تیل کو صرف بالوں کی جڑوں میں لگانا زیادہ مفید ہوتا ہے کیونکہ مساج سے خون کی روانی بہتر ہوتی ہے اور بالوں کی جڑیں مضبوط بنتی ہیں۔
ماہرین یہ بھی تجویز کرتے ہیں کہ تیل کو ایک سے دو گھنٹے تک سر میں لگا رہنے دیا جائے اور بعد میں ہلکے شیمپو سے دھو لیا جائے۔ رات بھر تیل لگا کر رکھنے سے عام طور پر کوئی خاص فائدہ نہیں ہوتا، خاص طور پر ان افراد کے لیے جن کی جلد زیادہ آئلی ہوتی ہے۔
بالوں کی صحت کے لیے قدرتی تیل جیسے ناریل، بادام اور کیسٹر آئل کو بہتر سمجھا جاتا ہے اور ماہرین کے مطابق ہفتے میں دو سے تین مرتبہ تیل لگانا کافی ہوتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل بالوں کے لیے ایک علاج کی حیثیت رکھتا ہے، اس لیے اسے مناسب مقدار اور درست طریقے سے استعمال کیا جائے تو یہ بالوں کو مضبوط اور صحت مند بنانے میں مدد دے سکتا ہے۔