مسکارا:خوبصورتی یا نقصان؟ماہرین نے خواتین کو احتیاط کی ہدایت کردی
مسکارا دراصل رنگ، ویکس، تیل اور مختلف کیمیکل اجزاء پر مشتمل ہوتا ہے جو پلکوں کو وقتی طور پر خوبصورت بناتے ہیں
خواتین کی میک اَپ کٹ میں مسکارا کو خاص اہمیت حاصل ہے کیونکہ یہ پلکوں کو گھنا، لمبا اور پرکشش بنا دیتا ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ مسکارا کا غیر محتاط یا طویل استعمال آنکھوں کی صحت کے لیے نقصان دہ بھی ثابت ہو سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق مسکارا دراصل رنگ، ویکس، تیل اور مختلف کیمیکل اجزاء پر مشتمل ہوتا ہے جو پلکوں کو وقتی طور پر خوبصورت بناتے ہیں، مگر زیادہ استعمال سے بعض مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ جرنل آف کاسمیٹک سائنس میں شائع ہونے والی 2021 کی ایک تحقیق کے مطابق بعض مسکارا میں شامل مصنوعی رنگ اور خوشبو والے اجزاء پلکوں کے خلیات کو کمزور کر سکتے ہیں جس کے نتیجے میں بار بار استعمال سے پلکیں جھڑنے لگتی ہیں۔
اسی طرح ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مسکارا طویل وقت تک لگا رہے یا سونے سے پہلے اسے صاف نہ کیا جائے تو آنکھوں میں بیکٹیریا اور فنگس بڑھنے کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے۔ امریکن اکیڈمی آف اوفتھالمولوجی کے مطابق پرانا یا دوسروں کے ساتھ شیئر کیا گیا مسکارا پپوٹوں کی سوزش اور خارش جیسے مسائل پیدا کر سکتا ہے۔
ماہرین یہ بھی بتاتے ہیں کہ واٹر پروف مسکارا میں موجود سیلیکون اور ویکس آنکھوں کے اردگرد جلد کو خشک کر سکتے ہیں، جس سے جلن، خشکی اور بعض اوقات الرجی بھی ہو جاتی ہے۔ عالمی ادارہ صحت کی 2019 کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آنکھوں کے میک اَپ سمیت کاسمیٹکس اگر مقررہ مدت کے بعد استعمال کیے جائیں تو جراثیم پھیلنے کا خطرہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق آنکھوں کی حفاظت کے لیے ضروری ہے کہ مسکارا کو تین سے چھ ماہ کے اندر تبدیل کیا جائے، سونے سے پہلے اسے اچھی طرح صاف کیا جائے اور کسی دوسرے شخص کا مسکارا استعمال نہ کیا جائے۔ قدرتی اجزاء جیسے الو ویرا، بادام کا تیل یا وٹامن ای پر مشتمل مسکارا کو آنکھوں کے لیے نسبتاً محفوظ سمجھا جاتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ خوبصورت پلکیں اسی وقت اچھی لگتی ہیں جب آنکھیں صحت مند ہوں، اس لیے مسکارا استعمال ضرور کریں مگر احتیاط کے ساتھ کیونکہ آنکھوں کی صحت خوبصورتی سے کہیں زیادہ اہم ہے۔