قیمتیں نہ بڑھانے پر حکومت تیل کمپنیوں کو 23 ارب روپے ادا کرے گی

عالمی مارکیٹ کی قیمتوں میں جو فرق آئے گاوہ حکومت آئل مارکیٹنگ کمپنیوں ادا کرے گی۔

               
March 15, 2026 · کامرس

وفاقی حکومت تیل کمپنیوں کو ڈیزل اور پیٹرول کی قیمت نہ بڑھانے کے بدلے میں 23 ارب روپے ادا کرے گی۔

برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کی وجہ سے عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں۔ اس وجہ سے ملک میں قیمتوں کے ہفتہ وار جائزے میں پیٹرول کی قیمت کو 49.63 روپے فی لیٹر اور ڈیزل کی قیمت کو 75.05 روپے فی لیٹر بڑھنا تھا۔

وزارتِ توانائی کے پیٹرولیم ڈویژن نے کہا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں قیمتوں میں اضافے کے باوجود وزیرِ اعظم نے ہائی سپیڈ ڈیزل اور پیٹرول کی قیمتیں برقرار رکھنے کی منظوری دے دی ہے۔

پیٹرولیم ڈویژن کے مطابق ملک کی اور عالمی مارکیٹ کی قیمتوں میں جو فرق آئے گا وہ حکومت آئل مارکیٹنگ کمپنیوں ادا کرے گی۔

نوٹی فیکیشن میں کہا گیا ہے کہ 14 مارچ 2026 سے 20 مارچ 2026 تک کے عرصے کے لیے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے پرائس ڈیفرینشل کلیمز (پی ڈی سی) کا تخمینہ تقریباً 23 ارب روپے لگایا گیا ہے، جو آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) ادا کرے گی۔

نوٹی فیکیشن کے مطابق اس مقصد کے لیے وزارتِ خزانہ نے کابینہ سے ’وزیرِ اعظم کفایت شعاری فنڈ‘ کے قیام کی منظوری حاصل کر لی ہے، جبکہ اقتصادی رابطہ کمیٹی سے 27.1 ارب روپے اس فنڈ میں منتقل کرنے کی منظوری بھی لے لی گئی ہے۔ اس رقم میں سے 23 ارب روپے اوگرا کو منتقل کیے جائیں گے تاکہ مذکورہ ادائیگیاں کی جا سکیں۔

نوٹی فیکیشن میں مزید کہا گیا ہے کہ پرائس ڈیفرینشل کلیمز کی ادائیگی کے طریقۂ کار کو اوگرا تیار کرے گا، جس میں آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کی جانب سے جمع کرائے گئے بلوں کی تصدیق اور آڈٹ کا عمل بھی شامل ہو گا۔

اوگرا کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ان فیصلوں پر عمل در آمد کے لیے ضروری اقدامات کرے اور ادائیگیوں کا عمل مکمل کرے۔