اب صارفین میپس پر ٹائپ کرنے کے بجائے سوالات پوچھ سکتے ہیں اور چیٹ بوٹ کی طرح جوابات حاصل کر سکتے ہیں
گوگل نے اپنی مشہور میپ سروس میں نئی اے آئی ٹیکنالوجی سے لیس ’’آسک‘‘ بٹن متعارف کرایا ہے، جو صارفین کو جنریٹیو آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI) کے ذریعے براہِ راست بات چیت کر کے رہنمائی حاصل کرنے کی سہولت فراہم کرتا ہے۔
اب صارفین میپس پر ٹائپ کرنے کے بجائے سوالات پوچھ سکتے ہیں اور چیٹ بوٹ کی طرح جوابات حاصل کر سکتے ہیں۔ یہ فیچر ڈرائیونگ یا پیدل چلنے کے دوران راستوں کی مکمل رہنمائی فراہم کرے گا اور سب سے بہتر راستے کے انتخاب میں مدد کرے گا۔
صارفین جب ’’آسک میپس‘‘ بٹن پر کلک کریں گے تو انہیں چیٹ بوٹ جیسا تجربہ حاصل ہوگا اور وہ کسی بھی جگہ یا مقام کے بارے میں تفصیلی سوالات کر سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر فون بیٹری ختم ہونے والی ہو تو گوگل میپس قریبی لائبریری یا کیفے کا نام فراہم کرے گا جہاں چارجنگ ممکن ہے۔
یہ فیچر ٹیکسٹ اور آڈیو جوابات کے ساتھ روزمرہ کے سفری راستوں یا مخصوص مقامات کے بارے میں معلومات فراہم کرے گا، اور صارفین کی ماضی کی ترجیحات کے مطابق سفارشات بھی پیش کرے گا۔ صارفین ریویوز دیکھ کر بہتر فیصلہ کر سکیں گے اور اپنی سفری منصوبہ بندی آسانی سے کر سکیں گے۔
گوگل کے مطابق یہ فیچر فی الحال امریکہ اور بھارت میں موبائل صارفین کے لیے دستیاب ہے، جبکہ دیگر ممالک میں آنے والے مہینوں میں اسے متعارف کرایا جائے گا۔