آبنائےہرمز میں جنگ سے شدید ماحولیاتی تباہی کے خطرات کی وارننگ

تیل کے اخراج کاایک بھی واقعہ اس حساس آبی مسکن کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا سکتا ہے

               

تیل بردار ٹینکرز

 

خلیج فارس میں پھنسےبحری جہازوں اور آبنائے ہرمز تک پھیلے حملوں نے شدید عالمی ماحولیاتی خطرات پیداکردیئے ہیں۔ماحولیات کی بین الاقوامی تنظیم ’’گرین پیس ‘‘جرمنی کی نینا نوئل نے (جو اس علاقے میں ٹینکروں اور تیل کے اخراج کے ممکنہ اثرات کی میپنگ کر رہی ہیں) کہا ہےکہ خلیج فارس میں اربوں لیٹر تیل برداردرجنوں ٹینکر پھنسے ہوئے ہیں ۔سمندر میں بارودی سرنگیں بچھائی جا رہی ہیں اور میزائل جہازوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ ایک عظیم ماحولیاتی تباہی کسی بھی وقت پیش آنے کو تیار ہے۔ خلیج میں تیل کے اخراج کاایک بھی واقعہ اس حساس آبی مسکن کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا سکتا ہے، جس کے تباہ کن نتائج خطے کے انسانوں، جانوروں اور پودوں پر مرتب ہوں گے، اور اس انسانی جانی نقصان میں مزید اضافہ ہوگا جو یہ غیر قانونی جنگ پہلے ہی مقامی کمیونٹیز کو پہنچا چکی ہے۔

 

گر ین پیس کے مطابق ،ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملے اور اس کے بعد پڑوسی خلیجی ممالک پر ایرانی حملوں نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا ہے کہ تیل اور گیس پر ہمارا انحصار امن، سلامتی اور خوشحالی کے لیے ایک مستقل خطرہ ہے۔ جب تیل اور گیس کی قیمتیں بڑھتی ہیں، تو فوسل فیول کی بڑی کمپنیاں مزید منافع سمیٹتی ہیں ، عام لوگ ہیٹنگ، بجلی، ٹرانسپورٹ اور خوراک کے بڑھتے ہوئے اخراجات کی مار جھیلتے ہیں۔

 

گرین پیس تمام فریقوںسے کشیدگی کم کرنے اور پرامن سفارتی حل تلاش کرنے کا مطالبہ کرتی ہے۔ ہم دنیا بھر کی حکومتوں سے بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ فوری طور پر فوسل فیولز سے پیچھا چھڑا کر قابلِ تجدید توانائی کے نظام کی طرف منتقل ہوں، جہاں تنازعات کے خطرات بڑھنے کے بجائے کم ہوتے ہیں۔

 

وینزویلا سے لے کر ایران تک، ہم نے دیکھا ہے کہ وسائل (خصوصاً تیل اور گیس) پر قابض ہونے کی ٹرمپ کی خواہش کس طرح پرتشدد خارجہ پالیسی کی صورت میں سامنے آ رہی ہے۔ ٹرمپ کی ایران کے ساتھ اس غیر قانونی جنگ میں صرف تیل اور گیس کی کمپنیاں ہی فاتح ہیں۔

 

گرین پیس کی ایک تحقیقات نے بحری جہازوں کی نقل و حرکت کے ڈیٹا اور سیٹلائٹ تصاویر کا استعمال کرتے ہوئے بند آبنائے ہرمز کا تجزیہ کیا ہے اور تخمینہ لگایا ہے کہ اگر ٹینکرز کو نقصان پہنچا تو خلیج فارس میں تیل کے اخراج کے کیا نتائج ہو سکتے ہیں۔ خلیج فارس میں پھنسے ہوئے تیل کے ٹینکروں میں کم از کم 21 ارب لیٹر تیل موجود ہے۔

 

گرین پیس کے سمیلیشنز (مصنوعی نمونے) دکھاتے ہیں کہ اگر کسی حملے میں ان پھنسے ہوئے ٹینکروں کو نقصان پہنچا تو تیل کی تہہ کس طرح پھیل سکتی ہے۔ آبنائے ہرمز اور ملحقہ پانی قدیم مرجانی چٹانوں (Coral reefs)، مینگروو کے جنگلات اور سمندری گھاس کے میدانوں کا گھر ہیں۔ یہ ایک ماحولیا تی ٹائم بم ہے جو بہت بڑا خطرہ ہے ،اوریہ خطے میں عدم استحکام اور انسانی مصائب میں مزید اضافہ کر رہا ہے۔