حلال خوراک کی طرح اے آئی سے پاک تحاریر اور ویڈیو کیلئے لوگو تیار کیا جانے لگا

پرائوڈلی ہیومن،نواےآئی، ہیومن میڈ،اور اے آئی فری جیسے اعلانات ظاہر ہونے لگے ہیں

               
March 16, 2026 · اہم خبریں

نو اے آئی

 

دنیا بھر میں مختلف تنظیموں نے انسان کی تیار کردہ تحریروں، ویڈیوز اور دیگر تخلیقی مواد کی شناخت کے لیے نئے لیبلز اور لوگوز متعارف کرانے کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ یہ اقدام مصنوعی ذہانت کے تیزی سے بڑھتے استعمال کے ردِعمل کے طور پر سامنے آیا ہے، جس کے باعث تخلیقی صنعتوں میں ملازمتوں اور پیشوں کے مستقبل کے بارے میں خدشات بڑھ رہے ہیں۔

 

رپورٹس کے مطابق فلموں، کتابوں، ویب سائٹس اور مارکیٹنگ مواد پر اب پرائوڈلی ہیومن،نواےآئی، ہیومن میڈ،اور اے آئی فری جیسے اعلانات ظاہر ہونے لگے ہیں، جن کا مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ متعلقہ مواد مکمل طور پر انسانی تخلیق ہے اور اس میں مصنوعی ذہانت استعمال نہیں کی گئی۔

 

برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق دنیا بھر میں کم از کم آٹھ مختلف مہمات اس مقصد کے لیے سرگرم ہیں کہ ایک ایسا عالمی معیار اور لوگو تیار کیا جائے جسے ویسی ہی عالمی شناخت حاصل ہو جیسی اخلاقی طور پر تیار کردہ مصنوعات کے لیے فیئر ٹریڈکو حاصل ہے۔

 

تاہم ماہرین کے مطابق اس وقت مختلف تنظیموں کی جانب سے متعارف کرائے گئے متعدد لیبلز صارفین کے لیے الجھن کا سبب بن سکتے ہیں۔ مانچسٹرمیٹروپولیٹن یونیورسٹی کی ماہرِ صارفین آمنہ خان کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت مارکیٹ میں نمایاں تبدیلی لا رہی ہے اور اگر ایک واضح عالمی تعریف طے نہ کی گئی تو صارفین کے لیے “ہیومن میڈ” مواد کی شناخت مشکل ہو سکتی ہے۔

 

کچھ پلیٹ فارمز ایسے لوگوز فراہم کرتے ہیں جنہیں کوئی بھی مفت یا فیس کے ساتھ استعمال کر سکتا ہے، دیگر نظام اشیا جانچ پڑتال کے بعد سرٹیفکیشن جاری کرتے ہیں۔

 

شوبز اور اشاعتی صنعت میں بھی اس رجحان کا اثر دکھائی دے رہا ہے۔ 2024 کی فلمHereticکے اختتام پر واضح کیا گیا کہ اس کی تیاری میں جنریٹو اے آئی استعمال نہیں کی گئی۔ اسی طرح معروف پبلشرFaber and Faberنے اپنی بعض کتابوں پر “Human Written” کی مہر لگانا شروع کر دی ہے۔

 

ماہرین کا کہنا ہے کہ چونکہ اے آئی اب روزمرہ کے بہت سے ڈیجیٹل ٹولز کا حصہ بن چکی ہے، اس لیے مستقبل میں یہ طے کرنا ایک بڑا چیلنج ہوگا کہ کسی تخلیق کو مکمل طور پر انسانی قرار دینے کا معیار کیا ہونا چاہیے۔

ٹیگز: