رحیم یار خھان:بے بنظیر انکم اسپورٹ پروگرام ، ادائیگی مرکز کی چھت گرنے سے 8 خواتین جاں بحق، 30 زخمی
تحقیقاتی ٹیم روانہ، لواحقین کے لیے فی کس 10 لاکھ روپے اور زخمیوں کے لیے 3 لاکھ روپے مالی امداد کا اعلان
فائل فوٹو
رحیم یار خان : رحیم یار خان میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) کی مستحق خواتین کے لیے قائم نجی بینک کے ادائیگی مرکز پر افسوسناک حادثہ پیش آیا ہے، جہاں دکان کی چھت گرنے کے نتیجے میں اب تک 6 خواتین جاں بحق اور30زخمی ہو گئی ہیں۔
ریسکیو 1122، ایدھی اور دیگر امدادی اداروں کی ٹیموں نے موقع پر پہنچ کر زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا۔
ترجمان ضلعی انتظامیہ کے مطابق زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں جبکہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔
ریسکیو 1122 کے مطابق بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت قسط وصول کرنے کے لیے 200 سے زائد خواتین چھت پر موجود تھیں جو کمزور ہونے کی وجہ سے گر گئی۔
زخمی خواتین کو شیخ زید ہسپتال منتقل کیا گیا ہے اور ہسپتال میں ایمرجنسی بھی نافذ کر دی گئی ہے۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی صدرِ پاکستان آصف علی زرداری کی ہدایت پر چیئرپرسن بی آئی ایس پی، سینیٹر روبینہ خالد فوری طور پر رحیم یار خان کے لیے روانہ ہو گئی ہیں۔ وہ وہاں متاثرہ خاندانوں سے ملاقات کریں گی اور صورتحال کا خود جائزہ لیں گی۔ انہوں نے واقعے پر گہرے دکھ اور رنج کا اظہار کیا ہے۔
ہیڈ کوارٹرز سے ایک اعلیٰ سطح کمیٹی بھی فوری طور پر روانہ کر دی گئی ہے جو 24 گھنٹوں کے اندر واقعے کی مکمل تحقیقات کر کے ذمہ داران کا تعین کرے گی۔ انتظامیہ نے ممکنہ غفلت پر متعلقہ پارٹنر بینک کو باقاعدہ نوٹس جاری کر دیا ہے اور اس پر بھاری جرمانہ بھی عائد کیا جا رہا ہے۔
بی آئی ایس پی انتظامیہ نے جاں بحق ہونے والی خواتین کے لواحقین کے لیے فی کس 10 لاکھ روپے اور زخمیوں کے لیے 3 لاکھ روپے مالی امداد کا اعلان کیا ہے۔ یہ ادائیگیاں کل تک مکمل کر لی جائیں گی۔
سینیٹر روبینہ خالد کا کہنا ہے کہ واقعے کی شفاف تحقیقات ہوں گی اور بینک نمائندگان کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی تاکہ مستقبل میں ایسے حادثات سے بچا جا سکے۔