آبنائے ہرمز کی بندش: پاکستان کے پاس پیٹرول اور ڈیزل کے ذخائر موجود مگر کتنے؟
404 ہزار میٹرک ٹن ڈیزل اور 564 ہزار میٹرک ٹن پیٹرول موجود ہے۔ سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے پیٹرولیم
فائل فوٹو
اسلام آباد: پاکستانی سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پیٹرولیم کو بتایا گیا ہے کہ ملک میں اس وقت 392 ہزار میٹرک ٹن کروڈ آئل کا ذخیرہ موجود ہے۔
سینیٹ سیکریٹریٹ سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پیر کو سیکریٹری پیٹرولیم نے قائمہ کمیٹی برائے پیٹرولیم کو بتایا کہ ملک میں اس وقت 404 ہزار میٹرک ٹن ڈیزل اور 564 ہزار میٹرک ٹن پیٹرول موجود ہے۔
بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ بین الاقوامی صورتحال کے سبب روس پر عائد پابندیاں ہٹنے کے بعد 11 مارچ سے پاکستان کو روس سے بھی تیل خریدنے کی اجازت مل گئی ہے۔
تاہم سیکریٹری پیٹرولیم کا کہنا تھا کہ پاکستان کے پاس روسی تیل کے حصول کے لیے منظم بینکنگ چینلز موجود نہیں ہیں اور اس پورے عمل میں 30 سے 40 روز لگتے ہیں۔
’روسی آئل ٹینکرز پاکستان بندرگاہوں پر اپنے حجم کے باعث لنگر انداز نہیں ہو سکتے، اس لیے یہ تیل پہلے عمان جاتا ہے اور پھر وہاں سے پاکستان آتا ہے۔‘
سیکریٹری پیٹرولیم کے مطابق حکومت تیل کے ممکنہ بحران بچنے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔
دوران بریفنگ کمیٹی کو بتایا گیا کہ پاکستان تقریباً 25 فیصد کروڈ آئل، 30 فیصد ڈیزل اور 70 فیصد پیٹرول خلیج فارس سے آبنائے ہرمز کے ذریعے درآمد کرتا ہے اور ’اگر اس جنگ نے طول پکڑا تو پاکستان کو شاید پیٹرولیم مصنوعات کے حصول کے لیے طویل روٹس کا سہارا لینا پڑے۔