امریکی کمیشن نے ٹرمپ سے بھارتی خفیہ ایجنسی ‘را’ پر پابندیاں لگانے کا مطالبہ کردیا

انٹیلی جنس ایجنسی مسلمانوں کیخلاف مظالم اور بیرون ملک حملوں میں ملوث نکلی، آر ایس ایس پر بھی پابندیوں کی سفارش

               
March 17, 2026 · امت خاص, اہم خبریں

امریکہ کے ایک اہم کمیشن نے سفارش کی ہے کہ امریکہ بھارت میں مذہبی آزادی کی مبینہ خلاف ورزیوں کے باعث بھارتی خفیہ ایجنسی ‘را’ اور ہندو قوم پرست تنظیم پر  پابندیاں عائد کرے۔
یہ سفارش یونائیٹڈ اسٹیٹس کمیشن آن انٹرنیشنل ریلیجئس فریڈم (یو ایس سی آئی آر ایف) نے اپنی 2026 کی سالانہ رپورٹ میں کی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت میں مذہبی آزادی کی صورتحال گزشتہ برس مزید خراب ہوئی اور اس کے ذمہ دار بعض ریاستی ادارے اور انتہا پسند تنظیمیں ہیں۔
رپورٹ میں خاص طور پر بھارتی خفیہ ایجنسی ریسرچ اینڈ انالیسس ونگ (را) اور ہندو قوم پرست تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کا نام لیتے ہوئے کہا گیا کہ ان پر مذہبی آزادی کی سنگین خلاف ورزیوں میں کردار ادا کرنے یا انہیں برداشت کرنے کے الزامات ہیں۔
کمیشن نے امریکی حکومت سے سفارش کی کہ ان اداروں یا ان سے وابستہ افراد کے اثاثے منجمد کیے جائیں اور انہیں امریکہ میں داخلے سے روکا جائے۔ رپورٹ کے مطابق اس اقدام کا مقصد مذہبی آزادی کی خلاف ورزیوں پر دباؤ ڈالنا ہے۔
بھارت کو ”خصوصی تشویش کا حامل ملک“ قرار دینے کی سفارش
کمیشن نے اپنی رپورٹ میں یہ بھی کہا کہ امریکہ کو چاہیے کہ بھارت کو مسلسل ساتویں سال ”کنٹری آف پرٹیکولر کنسرن“ (خصوصی تشویش کا حامل ملک) قرار دے۔ یہ درجہ ان ممالک کو دیا جاتا ہے جہاں مذہبی آزادی کی منظم، مسلسل اور سنگین خلاف ورزیاں ہو رہی ہوں۔
تاہم ماضی میں امریکی محکمہ خارجہ نے کمیشن کی ایسی سفارشات کے باوجود بھارت کو اس فہرست میں شامل نہیں کیا۔

‘را’ بیرون ملک مذہبی اقلیتوں کیخلاف حملوں میں ملوث

رپورٹ میں الزام لگایا گیا ہے کہ بھارت کی خفیہ ایجنسی ‘را’ مبینہ طور پر بیرون ملک (خاص طور پر کینیڈا اور امریکہ میں) ان افراد کو نشانہ بنانے، ڈرانے دھمکانے یا ان کے قتل کی سازشوں میں ملوث رہی ہے جو بھارت میں مذہبی اقلیتوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھاتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق یہ اقدامات مذہبی آزادی کی سنگین خلاف ورزیوں کے زمرے میں آتے ہیں۔
کمیشن نے ‘را’ کی سرگرمیوں کو “سرحد پار جبر” سے تعبیر کیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ ایجنسی صرف بھارت کے اندر ہی نہیں بلکہ عالمی سطح پر ایسے مذہبی رہنماؤں اور کارکنوں کو خاموش کرانے کی کوشش کر رہی ہے جو بھارتی حکومت کی مذہبی پالیسیوں کے ناقد ہیں۔
رپورٹ میں یہ نکتہ اٹھایا گیا ہے کہ ‘را’ نے مبینہ طور پر ایسے نیٹ ورکس کی مدد کی ہے جو مخصوص مذہبی گروہوں کے خلاف نفرت انگیز مہم چلانے یا ان کی جاسوسی کرنے میں ملوث پائے گئے۔
اسی بنیاد پر کمیشن نے امریکی حکومت کو یہ سخت سفارش کی ہے کہ ‘را’ (RAW) کے ان افسران پر پابندیاں لگائی جائیں جو ان آپریشنز کی نگرانی یا منصوبہ بندی میں شامل تھے۔ ان کے امریکہ میں داخلے پر پابندی لگائی جائے اور ان کے اثاثے منجمد کیے جائیں۔

بھارتی ریاستوں میں مذہبی آزادی کی صورتحال

رپورٹ کے مطابق 2025 کے دوران بھارت میں مذہبی آزادی کی صورتحال مزید بگڑ گئی۔ اس میں کہا گیا کہ:

  • بعض ریاستوں نے مذہب تبدیلی کے خلاف قوانین کو مزید سخت بنانے کی کوشش کی۔
  • ان قوانین کے تحت قید کی سزاؤں میں اضافہ کیا گیا۔
  • مذہبی اقلیتوں اور پناہ گزینوں کی بڑے پیمانے پر گرفتاریوں اور بے دخلی کے واقعات رپورٹ ہوئے۔
  • مذہبی اقلیتوں کے خلاف ہجوم کے حملوں کو روکنے میں حکام ناکام رہے یا انہیں برداشت کیا گیا۔

کمیشن کے مطابق ایسے اقدامات نے اقلیتوں کے مذہبی حقوق کو شدید متاثر کیا۔

بھارتی سیاست میں بھی بحث

ادھر بھارت کی اپوزیشن جماعت انڈین نیشنل کانگریس نے کمیشن کی سفارشات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ رپورٹ میں آر ایس ایس کے کردار پر تشویش ظاہر کی گئی ہے اور یہ تنظیم ملک کے اتحاد اور مذہبی آزادی کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ کمیشن کی رپورٹ کے بعد بھارت میں مذہبی آزادی اور اقلیتوں کے حقوق کے حوالے سے نئی بحث شروع ہو گئی ہے، جبکہ امریکی حکومت کی جانب سے ان سفارشات پر عملدرآمد کے حوالے سے ابھی کوئی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔ بھارت نے اس رپورٹ کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا کہ نئی دہلی نے رپورٹ کا نوٹس لیا ہے لیکن اسے ”سیاسی محرکات پر مبنی اور متعصبانہ“ قرار دیتے ہوئے رد کر دیا ہے۔ ان کے مطابق کمیشن کی جانب سے بھارت کی صورتحال کو جس انداز میں پیش کیا گیا ہے وہ درست نہیں اور یہ رپورٹ زمینی حقائق کی عکاسی نہیں کرتی۔