انسانی دماغ کا حیران کن خودکار نظام، روزمرہ کے کئی کام بغیر سوچے انجام پاتے ہیں
اکثر لوگوں کو یاد بھی نہیں رہتا کہ انہوں نے ہر قدم کیسے اٹھایا۔ ایک فرانسیسی ماہرِ نفسیات نے اس عمل کو “سائیکولوجیکل آٹومیٹ ازم” کا نام دیا تھا۔
ماہرینِ نفسیات کے مطابق انسانی دماغ روزمرہ زندگی کے کئی کام خودکار طریقے سے انجام دیتا ہے، جنہیں نفسیاتی اصطلاح میں آٹومیٹ ازم کہا جاتا ہے۔ اس عمل کے تحت انسان بہت سے کام بغیر شعوری سوچ کے کر لیتا ہے، جیسے صبح اٹھ کر دانت برش کرنا یا چائے بنانا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس دوران دماغ کا خودکار نظام جسم کی حرکات کو کنٹرول کرتا ہے، اسی لیے اکثر لوگوں کو یاد بھی نہیں رہتا کہ انہوں نے ہر قدم کیسے اٹھایا۔ ایک فرانسیسی ماہرِ نفسیات نے اس عمل کو “سائیکولوجیکل آٹومیٹ ازم” کا نام دیا تھا۔
امریکی ماہرینِ اعصاب کے مطابق گاڑی چلاتے وقت بھی یہی نظام کام کرتا ہے، جہاں انسان کسی اور چیز کے بارے میں سوچ رہا ہوتا ہے لیکن ہاتھ اور پاؤں اپنی جگہ درست انداز میں حرکت کرتے رہتے ہیں۔
سائنس دانوں کے مطابق موت کے بعد بھی بعض اوقات جسم میں مختصر حرکات دیکھنے میں آ سکتی ہیں، جیسے ہاتھ یا انگلیوں کا ہلنا۔ اسے سائنسی اصطلاح میں پوسٹ مارٹم موومنٹس کہا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ اس لیے ہوتا ہے کیونکہ پٹھوں اور اعصاب میں موجود توانائی فوری طور پر ختم نہیں ہوتی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ انسانی دماغ کا یہ خودکار نظام روزمرہ زندگی کو آسان بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔