حکومت سولر کی دشمن لیکن جنگ میں آخر کار سولر بجلی نے ہی پاکستان کو توانائی بحران سے بچا لیا
مہنگے تیل اور گیس کے بجائے شمسی توانائی استعمال کر کے اس سال کم از کم6اعشاریہ 3ارب ڈالر کی بچت ہوسکے گی
پاکستان میں حکومت سولر کی دشمن ثابت ہوتی رہی ہے لیکن جنگی صورت حال میں آخر سولربجلی نے ہی توانائی بحران سے ملک کو بچایاہے۔ گزشتہ چند سال کے دوران شمسی توانائی (سولر پاور) کے تیزی سے بڑھتے رجحان نے مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کی وجہ سے ایندھن کی قیمتوں میںاضافے کے اثرات کو کم کرنے میں مدد دی ہے۔ توانائی اور ماحول پر کام کرنے والے تھنک ٹینک رینیو ایبلز فرسٹ اورسینٹر فار ریسرچ آن انرجی اینڈ کلین ائر کے مطابق، مہنگے تیل اور گیس کے بجائے شمسی توانائی استعمال کر کے اس سال کم از کم6اعشاریہ 3ارب ڈالر کی بچت ہوسکے گی۔
پاکستان خام تیل، پیٹرولیم اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی تقریباً تمام ضروریات خلیجی ممالک سے پوری کرتا ہے، جہاں امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی سے پیداوار اور برآمدات بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔ اس توانائی بحران کے پیش نظر اسلام آباد نے ایندھن بچانے اور سرکاری اخراجات کم کرنے کے لیے کئی اقدامات متعارف کرائے ہیں، جن میں وزراء کی تنخواہوں کی معطلی اور ہفتے میں چار دن کام کا فیصلہ شامل ہے۔رواں ماہ کے شروع میں حکومت نے ایندھن کی قیمتوں میں 55 روپے کا ریکارڈ اضافہ کیا تھا۔ اس موقع پر وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک نے خبردار کیاکہ قیمتوں میں ہفتہ وار بنیادوں پر ردوبدل کیا جا سکتا ہے۔
اگر ملک میں شمسی توانائی کو اپنانے کے رحجان میں غیر متوقع اضافہ نہ ہوا ہوتاتو ایندھن کی بڑھتی قیمتوں کے اثرات کہیں زیادہ شدید ہوتے۔ یہ رجحان 2022 میں یوکرین پر روس کے حملے کے بعد ایل این جی کی قیمتوں میں ہونے والے اضافے سے شروع ہوا تھا۔
‘رینیو ایبلز فرسٹ کی ڈیٹا مینیجر رابعہ بابر کا کہنا ہے کہ ملک میں سولر کے بڑھتے استعمال نے نیشنل گرڈ سے بجلی کی طلب کو محدود کر دیا ہے۔ اگر سولر نہ ہوتا تو پاکستانی عوام مہنگائی کے سامنے زیادہ بے بس ہوتے۔
رپورٹ کے مطابق، ایل این جی کی قیمتوں میں اضافے کے بعد لاکھوں فیکٹریوں، کسانوں اور گھرانوں نے چین سے درآمد شدہ سستے سولر پینلز کا استعمال شروع کیا، جس کی وجہ سے 2022 سے 2024 کے درمیان پاکستان کی فاسل فیول (تیل و گیس) درآمدات میں 40 فیصد کمی واقع ہوئی۔ مزید برآں، گزشتہ پانچ سال میں چین سے 50 گیگا واٹ سے زائد کے سولر پینلز کی درآمد،اور ایل این جی میں کمی کے ذریعے 12 ارب ڈالر بچائے ہیں۔
واضح رہے کہ گذشتہ ماہ،سولرصارفین کے لیے نیٹ میٹرنگ کا خاتمہ کرکے نیٹ بلنگ کے نئے نظام کا آغاز کیاگیاتھا۔اس کے مطابق صارفین کو اب یونٹ کی قیمت ادا کرنی ہوگی‘ یونٹ کے بدلے یونٹ کی فراہمی ختم کردی گئی ہے۔