ایرانی حملوں سے خلیجی ملکوں میں اموات کی تفصیلات سامنے آگئیں
زیادہ تر میزائل حملوں کے ملبے اور ڈرون حملوں کے نتیجے میں ہوئیں
ویڈیو میں شمالی اسرائیل کے شہر پر ایرانی میزائل حملے کے بعد دھواں اٹھتا دکھایا گیا ہے، فائل فوٹو
ایران کے حملوں سے خلیجی ممالک میں اموات کی تفصیلات سامنے آئی ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق ،اب تک خلیج میں30 تا 40 افراد جنگی کارروائیوں کاایندھن چکے ہیں۔
متحدہ عرب امارات (UAE) میں 8 اموات کی تصدیق ہو ئی جن میں شہری اور فوجی اہلکار دونوں شامل ہیں۔کویت میں 12 اموات رپورٹ ہوئی ہیں، جن میں ایک فوجی تنصیب پر حملے میں ہلاک 6 امریکی فوجی بھی شامل ہیں۔عمان میں 5 اموات رپورٹ کی گئی ہیں۔سعودی علاقے الخرج میں ایک پروجیکٹائل (میزائل یا گولہ) لگنے سے 2 اموات ہوئیں۔بحرین میں 2 اموات رپورٹ ہوئی ہیں۔
خلیجی خطے میں ایرانی حملوں سے کم از کم 3 پاکستانی شہری جاں بحق ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔48 سالہ مارب زمان کا تعلق ضلع بنوں سے تھا اور وہ ابوظہبی میں بطور مزدور اور ڈرائیور کام کر رہے تھے۔ ایک اور پاکستانی ڈرائیو مظفرعلی کی 7 مارچ کو ہلاکت کی اطلاع ملی تھی۔مظفرکی عمر 27 برس تھی۔ 17 مارچ کو ابوظہبی کے علاقے بنی یاس میں ایک انٹرسیپٹڈ میزائل کا ملبہ گرنے سے بھی ایک پاکستانی شہری جاں بحق ہوا۔ ایرانی حدود میں مچھلی پکڑنے کے دوران ایک ڈرون حملے سے بھی ایک پاکستانی کی ہلاکت کی اطلاع ملی تھی، تاہم یہ واقعہ خلیجی عرب ممالک سے باہر پیش آیا۔
خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق خلیجی ریاستوں میں کم ازکم 14عام شہری مارے گئے جن میں سے 8 غیرملکی تارکین وطن تھے۔ ان کا تعلق پاکستان، نیپال، بنگلہ دیش اور بھارت سے تھا۔یہ اموات زیادہ تر میزائل حملوں کے ملبے اور ڈرون حملوں کے نتیجے میں ہوئیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ اس تنازع کا اثر خلیجی ممالک میں مقیم جنوبی ایشیائی محنت کش طبقے پر بھی پڑ رہا ہے۔