سیکیورٹی اداروں کے کامیاب آپریشن میں خضدارسے خاتون خودکش بمبار گرفتار
طالبان کمانڈر ابراہیم نے ذہن سازی کی تھی۔وزیراعلی ٰ بلوچستان کے ہمراہ پریس کانفرنس میں بیان
سکرین گریب
سیکیورٹی اداروں نے بلوچستان میں ایک کامیاب آپریشن کے دوران خاتون خودکش بمبار کو گرفتار کر لیا ہے۔لڑکی کو کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) کی جانب سے خودکش حملے کے لیے تیار کی گیاتھا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کوئٹہ میں وزیر داخلہ ضیا لانگو و دیگر حکام کے ہمراہ پریس کانفرنس کی جس دوران بی ایل اے کی جانب سے خودکش حملوں کے لیے تیار کی گئی لڑکی لائبہ بھی موجود تھیں۔ لائبہ نے بتایا کہ اسے خودکش مشن کے لیے تیار کیا جارہا تھا ۔
لائبہ نے نیوز کانفرنس میں اپنا بیان دیتے ہوئے کہا کہ میرا ضلع خضدار سے تعلق ہے، گھر میں اور گاؤں میں لوگ فرزانہ کے نام سے جانتے ہیں، مجھے طالبان کمانڈر ابراہیم نے خودکش بمباری کے لیے ذہن سازی کے بعد تیار کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ کمانڈر ابراہیم نے میرا رابطہ دل جان سے کروایا، جس نے مجھے بی وائی سی (بلوچ یکجہتی کمیٹی) کی راہنما ڈاکٹر صبیحہ سے ملوانا تھا، مجھے خودکش مشن کے لیے تیار کیا گیا تھا لیکن گرفتار ہوگئی، مجھے ٹارگٹ دیا گیا تھا کہ مزید لڑکیوں کو خود کش حملوں کے لیے تیار کروں، لیکن میں تمام خواتین سے کہوں گی کہ کسی غلط سرگرمی کا حصہ نہ بنیں۔
اس موقع پر وزیراعلیٰ بلوچستان کہا کہ دہشت گرد بلوچ خواتین کا استحصال کر رہے ہیں، لائبہ کی کہانی سب کے سامنے ہے، بی ایل اے نے خواتین کا احترام ختم کیا، بلوچوں کو لاحاصل مقاصد کی طرف دھکیل دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام حکومت سے خود حساس معلومات شیئر کر رہے ہیں، سکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائی نے بڑی تباہی سے بچالیا اور بلوچستان کو محفوظ بنایا۔ سیکیورٹی اداروں کا شکر گزار ہوں جنہوں نے خودکش بمبار خاتون کو زندہ گرفتار کیا۔
حکام نے بتایا کہ خضدار کے علاقے زہری سے تعلق رکھنے والی لائبہ خاتون کو مبینہ طور پر ایک ہدف دیا گیا تھا اور اسے دیگر نوجوان خواتین کو بھرتی کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔
وزیراعلیٰ نے بتایاکہ مشتبہ شخص کا تعلق مبینہ طور پر تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے تھا۔ لائبہ مبینہ طور پربراہیم اور دل جان کے نام سے شناخت شدہ افراد سے رابطے میں تھی، جنہیں کیس میں سہولت کار بتایا گیا تھا۔ افغانستان دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہ بنا ہوا ہے، جس میں تقریباً 27 عسکریت پسند گروپ موجود ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ان میں سے صرف ایک یا دو گروپ اس وقت پاکستان کو نشانہ بنا رہے ہیں، عالمی برادری کو طویل المدتی خطرے پر غور کرنا چاہیے، یہ پوچھنا چاہیے کہ کیا دنیا ایک اور بڑے پیمانے پر دہشت گردانہ حملے کے لیے تیار ہے۔