امریکی طیارہ بردار جہاز پر اہلکاروں نے خود آگ لگائی تاکہ گھر جا سکیں

طویل تعیناتی نے عملے کے حوصلے پست کر دیے تھے،بحری جہاز دیکھ بھال کے مسائل کا شکارتھا

               
March 18, 2026 · امت خاص

یوایس ایس جیرالڈ فورڈ

 

برطانوی میڈیانے ایسے شواہد کا انکشاف کیا ہے جن سے ظاہرہوتاہے کہ دنیا کے سب سے بڑے طیارہ بردار بحری جہازیوایس ایس جیرالڈ آر فورڈ پر لگنے والی آگ عملے نے خودلگائی تھی۔اس آتشزدگی میں بیڑے پر تعینات ملاح زخمی ہوئے اور 100بستر تباہ ہو گئے۔برطانوی نشریاتی ادارے نے ایک رپورٹ میں بتایاہے کہ اس کی طویل تعیناتی نے عملے کے حوصلے پست کر دیے تھے،بحری جہاز دیکھ بھال کے مسائل کا شکار اورعملہ گھروں کو جانے کے لیے بے تاب تھا۔

 

تقریبا نو ماہ سے سمندر میں موجود اور اس وقت ایران کے خلاف جنگ میں مدد کے لیے بحیرہ احمر میں مجود یہ بحری جہاز مبینہ طور پر مرمت کے لیے کر یٹے (Crete) روانہ ہوگیاہے۔ اس طویل تعیناتی نے جہاز کی تیاری اور ملاحوں کے حوصلے پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

 

خبررساں ادارے روئٹرز سے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کرتے ہوئے حکام نے یہ نہیں بتایا کہ 13بلین ڈالر مالیت کا یہ جہاز کب تک کریٹے میں رہے گا۔ ایک اہلکار نے بتایا کہ جب جہاز کے لانڈری ایریا میں آگ لگی تو تقریبا 200ملاحوں کا دھوئیں سے ہونے والی تکلیف کے باعث علاج کیا گیا۔ آگ پر قابو پانے میں گھنٹوں لگے اور اس سے تقریبا ً100 رہائشی کیبن متاثر ہوئے۔

 

اہلکار کے مطابق ایک سروس ممبر کو زخموں کی وجہ سے جہاز سے نکال کر منتقل کیا گیا۔ پینٹاگون نے فوری طور پر تبصرہ کرنے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔ نیویارک ٹائمز نے امریکی سینٹرل کمانڈ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ دو ملاحوں کا غیر تشویشناک زخموںکے لیے علاج کیا گیا۔ آگ لگنے کے بعد امریکی فوج نے کہا تھا کہ جہاز کے پروپلشن پلانٹ (انجن) کو کوئی نقصان نہیں پہنچا اور طیارہ بردار جہاز مکمل طور پر فعال ہے۔

 

4ہزارسے زائد ملاحوں پر مشتمل اس جہاز کو سمندر میں اپنے ٹوائلٹ سسٹم کے ساتھ بھی شدید مسائل کا سامنا ہے، امریکی میڈیا نے سسٹم کے بند ہونے اور بیت الخلا کے لیے لمبی لائنوں کا ذکر کیا ہے۔ یہ مسئلہ نیا نہیں ہے۔امریکی گورنمنٹ اکانئوٹبلٹی آفس کی 2020کی ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ جہاز کا ٹوائلٹ سسٹم غیر متوقع اور بار بار بندہو جاتا ہے اور اسے صاف کرنے کے لیے باقاعدگی سے ایسڈ فلش کی ضرورت ہوتی ہے، جس پر ہر بار 4لاکھ ڈالر لاگت آتی ہے۔

 

نیوی نے گزشتہ ماہ ایک بیان میں ٹوائلٹ کے مسائل کی رپورٹس کا اعتراف کیا تھا، لیکن جہاز کی قیادت کے حوالے سے کہا کہ بند ہونے کے واقعات کو تربیت یافتہ انجینئرنگ عملہ فوری طور پر حل کر دیتا ہے۔

 

سینیٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی کے وائس چیئرمین سینیٹر مارک وارنر نے جہاز کی طویل تعیناتی پر کڑی تنقید کی۔ انہوں نے ایک بیان میں کہاکہ فورڈ اور اس کا عملہ تقریبا ایک سال سمندر میں گزارنے کے بعد تھکاوٹ کی آخری حدوں پر پہنچ چکا ہے، اور وہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لاپروافوجی فیصلوں کی قیمت چکا رہے ہیں۔

 

گزشتہ ماہ نیوی نے ایک بیان میں کہا تھا کہ مشکل ماحول میں آپریشنز کے لیے تمام ملاحوں کی انتہائی لگن کی ضرورت ہوتی ہے۔ تعیناتی میں طوالت کے ساتھ جہاز کی دیکھ بھال میں کمی آئی ۔

 

مشرق وسطی میں تعیناتی سے قبل، اسی طیارہ بردار جہاز نے کیریبین میں امریکی آپریشنز میں حصہ لیا تھا، جہاں امریکی افواج نے منشیات اسمگل کرنے والی کشتیوں پر حملے کیے، پابندیوں کا شکار ٹینکروں کو روکا اور وینزویلا کے رہنما نکولس مادورو کو حراست میں لیا۔