کراچی میں طوفانی بارش نے تباہی مچا دی، 18 افراد جاں بحق
شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا، عید خریداری کے لیے نکلنے والے پھنس گئے
شہرِ قائد میں اچانک آنے والی طوفانی بارش اور تیز ہواؤں نے نظامِ زندگی مفلوج کر دیا، مختلف حادثات میں کم از کم 18 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہو گئے، جب کہ ہزاروں شہری سڑکوں پر پھنس گئے۔
سعید آباد کے علاقے بلدیہ مواچھ گوٹھ سیکٹر گیارہ ٹیلی فون ایکسچینج کے قریب دیوار گرنے کے نتیجے متعدد افراد دب گئے ۔ واقعے کی اطلاع ملنے پر پولیس ، رینجرز ، فلاحی ادارے اور سندھ 1122 کے رضا کار موقع پر پہنچ گئے ۔ ترجمان سندھ ریسکیو 1122 کے مطابق سینٹرل کمانڈ اینڈ کنٹرول ریسکیو 1122 کو اطلاع موصول ہوتے ہی ریسکیو 1122 کی اربن سرچ اینڈ ریسکیو کی ٹیم بمع ڈزاسٹر ریسپانس وہیکل اور ایمبولینس کے جائے وقوعہ پر روانہ کی گئی ۔ ریسکیو رضا کاروں نے امدادی سرگرمیاں شروع کی ۔ ریسکیو رضا کاروں نے ہیوی مشنری کی مدد سے دیوار کا ملبہ ہٹا یا اور ملبے تلے دبے افراد کی لاشوں کو ایمبولینس کی مدد سے سول اسپتال منتقل کیا گیا۔
ترجمان کے مطابق ابتدائی اطلاعات کے مطابق ہلاک شدگان نشے کے عادی تھے اور بارش کے باعث عمارت میں جمع ہوئے تھے ۔ عمارت کی دیواریں اور چھت منہدم ہونے کے سبب ملبے تلے متعدد افراد دب گئے ۔ ضلعی انتظامیہ کے تعاون اور ہیوی مشینری کی مدد سے ریسکیو آپریشن رات گئے تک جاری تھا ۔ ریسکیو 1122 کی اربن سرچ اینڈ ریسکیو ٹیم کی جانب سے ملبے تلے مزید افراد کی تلاش جاری رہا ۔ ایدھی حکام کے مطابق واقعے میں 11 افراد جاں بحق ہوئے ہیں ۔ جن میں 6 افراد کی لاشوں کو سول اسپتال منتقل کردیا گیا ہے جبکہ مزید 5 افراد کی لاشیں سول اسپتال منتقل کی جارہی ہے ۔
لانڈھی کالا پانی گجر پاڑا میں گھر کی چھت گرنے سے میاں اور بیوی جاں بحق ہوگئے ۔ جن کی لاشوں کو ایدھی رضا کاروں نے کورنگی سندھ گورنمنٹ اسپتال منتقل کیا ۔ ایدھی حکام کے مطابق متوفیان کی شناخت 48 سالہ شیر علی ولد رحیم داداور 45 سالہ ریاست زوجہ شیر علی کے ناموں سے ہوئی۔
ملیر ندی یارو گوٹھ کے قریب ایک شخص کے جاں بحق ہونے کی اطلاع پر چھیپا کے رضا کار موقع پر پہنچ گئے اور متوفی کی لاش ضابطے کی کارروائی کے لیے جناح اسپتال منتقل کر دی ، چھیپا حکام کا کہنا ہے کہ واقعہ آسمانی بجلی گرنے کے باعث پیش آنے کا بتایا جا رہا ہے جبکہ متوفی کی شناخت 35 سالہ حضرت عمر کے نام سے کی گئی تاہم اس حوالے سے ایس ایس پی ڈسٹرکٹ کا کہنا تھا کہ تاحال کسی مقام پر بجلی گرنے کی اطلاع نہیں ملی تاہم اس حوالے سے مزید معلومات حاصل کی جا رہی ہے۔
کورنگی 5 نمبر تسلیم گراؤنڈ کے قریب درخت گرنے سے ایک شخص جاں بحق ہوگیا ۔ جس کی لاش کو سندھ گورنمنٹ اسپتال کورنگی منتقل کیا گیا ریسکیو حکام کے مطابق متوفی کی فوری شناخت نہیں ہوسکی تاہم عمر 30 سال بتائی جاتی ہے ۔ کورنگی ساڑھے تین نمبر کے قریب گھر کی چھت گرنے سے 45 سالہ شیتا زوجہ سرور جاں بحق ہوگئی۔
ترجمان چھیپا فاؤنڈیشن چوہدری شاہد کے مطابق کلفٹن نیلم کالونی کے قریب درخت گرنے سے ایک خاتون جاں بحق ہوگئی جس کی فوری طور پر شناخت نہیں ہو سکی جبکہ اس کی عمر 35 سال کے قریب بتائی جاتی جبکہ گلستان جوہر کامران چورنگی کے قریب دیوار گرنے سے کمسن بچی جاں بحق ہوگئی جس کی فوری طور پر شناخت نہیں ہو سکی اور اس کی عمر 4 سال بتائی جاتی ہے ۔پی ای سی ایچ ایس بلاک 6 میں نجی اسپتال کی دیوار گرنے سے پارکنگ میں کھڑی متعدد گاڑیاں تباہ ہوگئی ۔
شہر کے مختلف علاقوں میں طوفانی ہواؤں کے باعث درخت، سائن بورڈز اور بجلی کے کھمبے گر گئے۔ سولجر بازار میں کئی سال پرانا درخت گرنے سے نقصان ہوا، جبکہ کلفٹن میں درخت گرنے سے دو افراد زخمی ہوئے۔
،شہر میں 90سے 97 کلو میٹر فی گھنٹہ رفتار سے چلنے والی ہواؤں نے بجلی کے پول بھی اکھاڑ دیئے ،شہر کے متعدد علاقوں میں بجلی کے پول گرنے کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں ،موسلا دھار بارش سے شارع فیصل ،نرسری ،کورنگی جانے وای سڑک ،لکی اسٹار ،صدر ،آئی آئی چند ریگر روڈ سمیت اہم شاہراؤں پر پانی جمع ہوگیا ،پانی کی نکاسی کا انتظام نہ ہونے سے شہری گھنٹوں سڑکوں پر کھڑے رہے ،لانڈھی بابر مارکیٹ ،حیدری ،بوہری بازار،جمع کلاتھ ،طارق روڈ سمیت دیگر بازاروں میں بھی پانی جمع ہوگیا ،اس کے علاوہ متعدد علاقوں میں پانی جمع رہنے کی شکایات موصول ہوتی رہی
عیسیٰ نگری، سر شاہ سلیمان روڈ اور مختلف فلائی اوورز پر نصب سائن بورڈز کو بھی شدید نقصان پہنچا۔
طوفانی موسم کے باعث سول ایوی ایشن حکام نے ہلکے وزن کے سیسنا طیاروں کی پروازوں پر پابندی عائد کر دی، جبکہ کراچی ایئرپورٹ پر شدید بارش کے پیش نظر فضائی آپریشن عارضی طور پر معطل کر دیا گیا۔
پی ای سی ایچ ایس میں ایک نجی اسپتال کی دیوار گرنے سے متعدد گاڑیوں کو نقصان پہنچا، جبکہ اسکیم 33 کی میرٹھ سوسائٹی میں ٹرانسفارمر میں آگ لگنے کا واقعہ بھی رپورٹ ہوا۔
دریں اثنا، محکمہ موسمیات کے مطابق کورنگی میں سب سے زیادہ 55.6 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔
شدید بارش کے باعث عید شاپنگ کے لیے نکلنے والے شہری شاپنگ مالز اور مارکیٹوں میں پھنس گئے، کئی مقامات پر بھگدڑ مچ گئی، جبکہ ٹریفک جام ہونے کے باعث ہزاروں افراد کو پیدل گھروں کو واپس جانا پڑا۔
حکام نے شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔