12 اسلامی ممالک کا ایران کے حملوں پرمشترکہ مؤقف سامنے آگیا
شہری آبادی اور کلیدی تنصیبات کو نشانہ بنانے والے اقدامات کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا گیا
ریاض: سعودی عرب میں منعقدہ اہم وزارتی اجلاس میں 12 اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے ایران کی جانب سے ہمسایہ ممالک کے خلاف حالیہ بیلسٹک میزائل اور ڈرون حملوں کی سخت مذمت کی ہے اور انہیں فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔
اجلاس کے بعد جاری ہونے والے مشترکہ اعلامیے میں خطے کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا اور شہری آبادی اور کلیدی تنصیبات کو نشانہ بنانے والے اقدامات کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا گیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ متاثرہ ممالک اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت اپنے دفاع کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔
وزرائے خارجہ نے ایران سے مطالبہ کیا کہ وہ حسنِ ہمسائیگی کے اصول اپنائے، خطے کی خودمختاری کا احترام کرے اور دیگر ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت سے گریز کرے۔ اعلامیے میں ایران کی طرف سے مختلف ملیشیاؤں کی مالی اور عسکری حمایت بند کرنے اور عالمی جہاز رانی کے تحفظ کے لیے آبنائے ہرمز اور باب المندب میں امن قائم رکھنے پر بھی زور دیا گیا۔
اجلاس میں لبنان کی صورتحال پر بھی بات کی گئی اور وہاں کی خودمختاری، استحکام اور ریاستی رٹ کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا گیا، جبکہ لبنان میں اسرائیلی جارحیت کی بھی مذمت کی گئی۔
اعلامیے میں زور دیا گیا کہ خطے کی سلامتی اور استحکام کے لیے اسلامی ممالک مستقبل میں بھی مسلسل مشاورت اور تعاون جاری رکھیں گے تاکہ کشیدگی کم ہو اور امن قائم رہے۔ ایران پر زور دیا گیا کہ وہ فوری اور بلا مشروط جارحیت بند کرے، کیونکہ خلیجی ممالک پر حملے غیر قانونی ہیں اور اقوام متحدہ کے آرٹیکل 51 کے تحت متاثرہ ممالک کو دفاع کا حق حاصل ہے۔