فتح ایران کاہدف نہیں، جنگ کو مہنگابنانا مقصد ہے
جنگ کے ذریعے خطے کواپنے حق میں ڈھالنے کی کوششیں ہورہی ہیں
اگرچہ ایران کو اس وقت اپنی حکومت کے لیے اب تک کے سب سے سنگین خطرے کا سامنا ہے، لیکن وہ امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ اپنے تنازع کو طول دینے کا اشارہ دے رہا ہے تاکہ بالآخر خطے کو اپنے حق میں نئے سرے سے تشکیل دے سکے۔
گزشتہ چند ہفتوں کے دوران ایرانی حکومت کو تباہ کن حدتک نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کے تقریباً روزانہ حملوں نے اس کی قیادت اور فوجی کمان کے ڈھانچے کی کئی تہوں کو ختم کر دیا ہے۔ ایرانی عوام، جو پہلے ہی برسوں کی معاشی مشکلات، پابندیوں اور بدانتظامی سے نڈھال تھے، اب قلت، بنیادی ڈھانچے کی تباہی اور سنگین ہوتے عسکری ماحول کے اضافی بوجھ کا سامنا کر رہے ہیں۔تاہم، حکومت ختم ہونے کے حقیقی خطرے کے باوجود، بچ جانے والے رہنماؤں نے اشتعال انگیز لہجہ برقرار رکھا ہوا ہے۔ انہوں نے بارہا تکلیف سہنے کی ایرانی صلاحیت، قیادت کے مزید نقصانات سے بے نیازی اور جنگ کو طول دینے کے واضح ارادے کا اظہار کیا ہے، اس دوران وہ علاقائی اور عالمی سطح پر تباہی مچا رہے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مکمل ہتھیار ڈالنےکے مطالبات کے باوجود، ایران کی بچ جانے والی قیادت نے خود کو فاتح کے طور پر پیش کیا ہے اور امن کے لیے انتہائی بھاری قیمت مقرر کی ہے۔ اس نے ایک نئے علاقائی جمود (Status Quo)، جنگی نقصانات کے ازالے، اور خلیجی عرب ریاستوں اور امریکہ کے درمیان دہائیوں پرانے اتحادوں میں تبدیلی کا مطالبہ کیا ہے۔
ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر ، محمد باقر قالیباف نے کہاکہ جنگ بندی صرف اس صورت میں منطقی ہے جب وہ اس بات کی ضمانت دے کہ جنگ دوبارہ شروع نہیں ہوگی، نہ کہ اس صورت میں کہ وہ دشمن کو اپنے مسائل حل کرنے کا موقع دے، جیسے تباہ شدہ ریڈاروں کی مرمت یا انٹرسیپٹر میزائلوں کی کمی کو پورا کرنا، تاکہ وہ ہم پر دوبارہ حملہ کر سکے۔انہوں نے عرب میڈیاسے بات کرتے ہوئے کہاکہ ہم تب تک لڑتے رہیں گے جب تک دشمن کو اپنی جارحیت پر حقیقی پچھتاوا نہ ہو، اور جب تک دنیا اور خطے میں مناسب سیاسی اور سیکورٹی حالات قائم نہ ہو جائیں۔
ایران نے یہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ جنگ کے بعد آبنائے ہرمز کے لیے ایران کے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک نیا پروٹوکول ہونا چاہیے اور بحری جہازوں کے محفوظ گزرنے کے لیے مخصوص شرائط ہونی چاہئیں۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے گذشتہ دنوں الجزیرہ کو بتایا کہ آبنائے ہرمز کی صورتحال اپنی جنگ سے پہلے والی حالت پر واپس نہیں آئے گی۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تہران بیرون ملک منجمد اثاثوں کی بحالی یا بین الاقوامی پانیوں میں واقع اس تنگ بحری راہداری کو استعمال کرنے والے ممالک سے ٹول ٹیکس وصول کرنے کا مطالبہ بھی کر سکتا ہے۔
سینٹر فار انٹرنیشنل پالیسی کے سینئر فیلو سینا طوسی کا کہنا ہے کہ ایران کا مقصد اس دباؤ کو جنگ کے بعد کے نتائج میں تبدیل کرنا ہے۔ وہ ایک ایسا افق تلاش کر رہا ہے جہاں وہ اب تنہا نہ ہو، بلکہ ایک نئے علاقائی توازن کا حصہ ہو جہاں اس کے استحکام سے خلیج فارس اور عالمی معیشت کا استحکام جڑا ہوا ۔
دوسری طرف، امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کا دعویٰ ہے کہ ایران جنگ ہار رہا ہے۔ ٹرمپ نے سوشل میڈیاپر لکھا کہ ایران کی فوج تباہ ہو چکی ہے اور ان کے تقریباً تمام سطح کے رہنما ختم ہو چکے ہیں۔ لیکن چند گھنٹوں بعد ہی ایران نے مشرق وسطیٰ پر حملوں کی 61ویں لہر شروع کر دی جس میں ایک اسرائیلی جوڑا ہلاک ہوا۔
جانز ہاپکنز یونیورسٹی کی پروفیسر نرگس باجغلی کے مطابق روایتی فوجی لحاظ سے ایران نہیں جیت رہا، لیکن انہیں اس طرح جیتنے کی ضرورت بھی نہیں۔ ان کی پوری حکمتِ عملی غیر متناسب جنگ(Asymmetrical Warfare) پر مبنی ہے تاکہ وہ جنگ جاری رکھنے کو مہنگا بنا دیں۔ وہ کہتی ہیں کہ امریکہ اور عرب ممالک تیل کی تجارت میں خلل کو غیر معینہ مدت تک برداشت نہیں کر سکتے۔
ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے پہلے ہی جنگ کے لیے ہنگامی منصوبے تیار کر رکھے تھے۔ اگرچہ وہ عوامی طور پر صرف امریکی مفادات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کرتے ہیں، لیکن انہوںنے عمان، متحدہ عرب امارات، بحرین، کویت، قطر، عراق اور سعودی عرب میں ہوٹلوں، ہوائی اڈوں اور توانائی کی تنصیبات پر بھی بے مثال حملے کیے ہیں۔
ایران کی موجودہ حکمتِ عملی یہ ہے کہ اپنی بقا کو پورے خطے کے استحکام سے جوڑ دیا جائے۔تجزیہ کاروں کاکہناہے کہ اگر ایران مستحکم اور معاشی طور پر فعال نہیں رہ سکتا، تو وہ اشارہ دے رہا ہے کہ وسیع تر خلیج فارس کا نظام بھی مستحکم نہیں رہے گا۔
کیا ایران کی یہ حکمتِ عملی کامیاب ہوگی؟ یہ ابھی واضح نہیں۔ متحدہ عرب امارات کے سفارتی مشیر انور قرقاش کا کہنا ہے کہ خلیجی ممالک ایران کو اصل خطرہ سمجھتے ہیں اور جنگ کے بعد وہ اسرائیل کے مزید قریب ہو سکتے ہیں۔ اماراتی وزیر ریم الہاشمی نے بھی واضح کیا کہ ان کا امریکہ کے ساتھ اسٹریٹجک اتحاد کسی بحران میں کمزور نہیں ہوگا۔
ایرانی حکومت کا حتمی مقصد فتح نہیں بلکہ اپنی بقا، اپنی دھاک اور جنگ کے بعد کی شرائط منوانے کی طاقت حاصل کرنا ہے۔