ایران سے متعلق غلط دعوے۔ امریکی سینٹ کمیٹی کی سماعت انٹیلی جینس ڈائریکٹر کی کلاس میں تبدیل

سماعت کے دوران تلسی گبارڈ اور سینیٹر جون اوسوف کے درمیان جنگ کے جواز پر سخت جملوں کا تبادلہ بھی ہوا

               
March 19, 2026 · امت خاص

امریکی ڈائریکٹر نیشنل انٹیلی جینس تلسی گبارڈ

 

امریکی سینٹ نے غلط دعووں پر نیشنل انٹیلی جینس ڈائریکٹرکی کلاس لے لی۔خاتون سربراہ نے پچھلے سال جون میں ایران پر حملوں کے بعد کہا تھا کہ ایران کی ایٹمی افزودگی کی صلاحیت بالکل ختم کردی گئی ہے۔

 

کمیٹی نے پوچھا کہ اب وائٹ ہاؤس نے یکم مارچ کو کہا کہ امریکا نے ایران کے فوری خطرے کو ختم کرنے کے لیے مہم شروع کی ہے، جب جون میں ایران کی ایٹمی صلاحیت ختم ہوگئی تھی تو اس کا خطرہ دوبارہ کیسے پیدا ہوگیا؟۔ تُلسی گبارڈ کئی بار پوچھنے کے باوجود جواب نہ دے سکیں ۔

 

سینیٹ انٹیلی جنس کمیٹی کی سماعت کے دوران، ڈائریکٹر آف نیشنل انٹیلی جنس تلسی گبارڈ اور سینیٹر جون اوسوف کے درمیان ایران کے خلاف جاری جنگ کے جواز پر سخت جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔

 

سینیٹر اوسوف نے نشاندہی کی کہ تلسی گبارڈ کی اپنی تحریری گواہی کے مطابق، جون 2025 کے حملوں (آپریشن مڈ نائٹ ہیمر) میں ایران کا جوہری افزودگی کا پروگرام مکمل طور پر تباہ ہو چکا تھا اور تہران نے اسے دوبارہ تعمیر کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی۔ تاہم، گبارڈ نے اپنے زبانی بیان میں اس اہم نکتے کو حذف کر دیا تھا۔اس حوالے س جواب میں تلسی گبارڈ نے کہا کہ ایسا وقت کی کمی کی وجہ سے کیا۔

 

جب اوسوف نے پوچھا کہ کیا انٹیلی جنس کمیٹی کے پاس فوری جوہری خطرے کے کوئی ثبوت ہیں (جو کہ وائٹ ہاؤس نے یکم مارچ 2026 کو جنگ شروع کرنے کا جواز بتایا تھا)، تو گبارڈ نے اس سوال کا براہ راست جواب دینے سے گریز کیا۔

 

گبارڈ نے مؤقف اختیار کیا کہ فوری خطرہ کیا ہوتاہے یہ نٹیلی جنس کمیٹی کی ذمہ داری نہیں ،صرف صدر ہی یہ فیصلہ کر سکتے ہیں کہ کیا چیز فوری خطرہ ہے اور کیا نہیں۔

 

اوسوف نے اس دفاع کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ آزادانہ طور پر خطرات کا جائزہ لینا ہی گبارڈ کا اصل کام ہے، اور وہ صدر ٹرمپ کی تردید سے بچنے کے لیے سوال کا جواب دینے سے کترا رہی ہیں۔