ہمیں توپوں اور طیاروں سے ختم کیاجاسکتاتوسوویت یاامریکی کرلیتے، سربراہ افغان طالبان
قندھارمیں عید کے موقع پرنمازکے مرکزی اجتماع سے خطاب۔پاکستان کا نام نہیں لیا
طالبان امیر ہبت اللہ اخوندزادہ۔ فائل فوٹو
طالبان کے سربراہ وہبت اللہ اخوندزادہ نے قندھار کی مرکزی عید گاہ میں عید الفطر کی نماز کے دوران خطاب کیا، جہاں انہوں نے پاکستان کے ساتھ کشیدگی پر غیر معمولی تبصرہ کیا ۔ یہ پہلی بار ہے جب طالبان رہنما نے پاکستان کے ساتھ موجودہ کشیدگی کی طرف کھلے عام اشارہ کیا ہے۔
ہبت اللہ اخوندزادہ نےقندھار کی مسجد کے مینار پر عید کا خطبہ دیا۔
یہ ان کی ایک غیر معمولی عوامی موجودگی تھی، جہاں وہ مسجد کے مینار پر کھڑے ہو کر ہزاروں نمازیوں سے خطاب کر رہے تھے۔خطاب تقریباً 42 منٹ کا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ عدل و انصاف کو قائم رکھنا ضروری ہے۔ افسران اور ذمہ داروں سے کہا کہ آپس میں بدنیتی نہ کریں۔عوام کا حق ہے کہ وہ پوچھیں کہ حکومت کس طرف جا رہی ہے۔
براہ راست پاکستان کا نام لیے بغیر انہوں نے کہا کہ اگر کوئی ہم پر بمباری کرے یا توپ خانے سے نشانہ بنائے، تو تم اپنے عقیدے اور ایمان میں کوئی تبدیلی نہ لانا۔ ہمیں توپ اور طیاروں سے ختم نہیں کیا جا سکتا اگر ایسا ممکن ہوتا تو امریکہ اور سوویت یونین ہمیں ختم کر دیتے۔
طالبان لیڈر نےحالیہ پاکستانی فضائی حملوں (جن میںمبینہ درجنوں شہری ہلاکتوں کا دعویٰ کیا گیاتھا) کا کوئی واضح حوالہ نہیں دیا گیا۔