زمین کا موسمیاتی توازن بگڑنے لگا، دنیا بھر میں خطرات بڑھ گئے

دنیا بھر میں شدید گرمی کی لہروں، غیر معمولی بارشوں، تباہ کن سیلابوں اور طاقتور سمندری طوفانوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے ، رپورٹ

               
March 24, 2026 · امت خاص
فائل فوٹو

فائل فوٹو

کراچی : عالمی موسمیاتی ادارے (ڈبلیو ایم او) کی کل جاری کی گئی سالانہ موسمیاتی رپورٹ 2025 میں خبردار کیا گیا ہے کہ زمین کا موسمیاتی نظام تیزی سے عدم توازن کا شکار ہو رہا ہے، جس کے اثرات دنیا بھر میں شدت کے ساتھ سامنے آ رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق گزشتہ 11 برس، یعنی 2015 سے 2025 تک کا عرصہ اب تک کا سب سے زیادہ گرم رہا ہے، جبکہ 2025 بھی گرم ترین سالوں میں شامل ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی درجۂ حرارت صنعتی دور سے پہلے کے مقابلے میں تقریباً 1.4 ڈگری سینٹی گریڈ تک بڑھ چکا ہے، جو خطرناک رجحان کی نشاندہی کررہا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سورج سے زمین پر آنے والی اور واپس جانے والی توانائی کے درمیان توازن بگڑ چکا ہے، جس کے باعث زیادہ گرمی فضا میں پھنس رہی ہے۔ اس اضافی حرارت کا بڑا حصہ سمندر جذب کر رہے ہیں، جو موسمی نظام میں مزید بے ترتیبی پیدا کر رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق سمندر گزشتہ دو دہائیوں سے مسلسل غیر معمولی مقدار میں حرارت جذب کر رہے ہیں، جو اس مسئلے کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔

اس بدلتے ہوئے موسمی توازن کے نتیجے میں دنیا بھر میں شدید گرمی کی لہروں، غیر معمولی بارشوں، تباہ کن سیلابوں اور طاقتور سمندری طوفانوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جس سے معیشت اور روزمرہ زندگی بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ پاکستان جیسے ممالک، جو پہلے ہی موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کا سامنا کر رہے ہیں، ان خطرات سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں، جہاں گرمی کی شدت، پانی کی قلت اور اچانک سیلاب جیسے مسائل مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔

رپورٹ کے مطابق اس بگڑتے توازن کی بنیادی وجہ انسانی سرگرمیاں ہیں، جن میں کوئلہ، تیل اور گیس کا بڑھتا ہوا استعمال، جنگلات کی کٹائی اور گرین ہاؤس گیسوں میں اضافہ شامل ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر فوری اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو موسمی شدت میں مزید اضافہ ہوگا، جس کے اثرات خوراک، پانی اور انسانی صحت پر پڑیں گے، اور آنے والی نسلوں کی بقاء کے لیے سنگین خطرات پیدا ہو سکتے ہیں۔