”جیوپولیٹیکل کا ڈاکٹر”: جنگ روکنے کے لیے بطور ایرانی مذاکرات کار باقرقالیباف کا انتخاب کیوں؟

علی لاریجانی کے قتل کے بعد انہیں طاقتور ترین ملکی شخصیات میں سے ایک دیکھا جا رہا ہے۔ عالمی ذرائع ابلاغ

               
March 24, 2026 · امت خاص

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمدباقرقالیباف

 

ایران سے جنگ ختم کرنے کے لیے امریکہ کس کے ساتھ مذاکرات کرے گا،عالمی ذرائع ابلاغ میں محمد باقر قالیباف کا نام اس حوالے سے سامنے آرہاہے ۔عرب میڈیاکے مطابق ،ٹرمپ انتظامیہ خاموشی سے ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر کو ایک ممکنہ شراکت دار اور مستقبل کے لیڈر کے طور پر بھی پرکھ رہی ہے ۔صدر ٹرمپ فوجی دبا ئوکے بجائے مذاکرات کے ذریعے معاملے کو انجام تک پہنچانے کا اشارہ دے رہے ہیں۔

 

ایک اسرائیلی عہدیدار نے انکشاف کیا کہ امریکی مندوب سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر باقر قالیباف کے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں تو قالیباف نے اس کی مکمل تردید کردی۔تاہم اس تردید کے باوجود اس وقت قالیباف کا نام چھایا ہوا ہے۔ خاص طور پر اس لیے کہ مذاکرات کے لیے ان کا انتخاب ایک سرپرائز قرار دیا گیا ہے کیونکہ وہ مغرب اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے سخت گیر موقف کے لیے معروف ہیں۔

 

محمد باقر قالیباف حالیہ جنگ کے خاتمے کے امکانات پر امریکا سے مذاکرات کرنے والی مرکزی شخصیت کے طور پر سامنے آرہے ہیں۔

 

امریکی میڈیاکے مطابق ،وائٹ ہائوس کے دو انتظامی عہدیداروں کے مطابق، 64سالہ محمد باقر قالیباف، جنہوں نے بارہا امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو جوابی کارروائی کی دھمکیاں دی ہیں، کچھ امریکی حلقوں میں ایک ایسے قابلِ عمل شراکت دارکے طور پر دیکھے جا رہے ہیں جو ایران کی قیادت کر سکتے ہیں اور جنگ کے اگلے مرحلے میں ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ مذاکرات کر سکتے ہیں۔

 

28 فروری کو ایرانی سپریم لیڈر علی خامنائی کی موت اور کئی بڑے ایرانی رہنمائوں کے مارے جانے اور ان کے بیٹے مجتبی نئے سپریم لیڈرکے زخمی ہونے کی تصدیق کے بعد نظریں ایرانی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سربراہ علی لاریجانی پر جمی تھیں۔ لیکن لاریجانی کے قتل کے بعد سب سے اہم سوال یہ بن گیا کہ آج ایران پر کون حکومت کر رہا ہے؟ یہاں تک کہ امریکی صدر نے اعلان کیا کہ مذاکرات ایک بڑے ایرانی عہدیدار سے ہوئے ہیں، سپریم لیڈر سے نہیں۔پھر ایک اسرائیلی عہدیدار کے حوالے سے ہونے والی لیکس میں انکشاف ہوا کہ مذاکرات کرنے والا بڑا ایرانی عہدیدار قالیباف ہیں۔

 

علی لاریجانی کے قتل کے بعد قالیباف کو ایران کی طاقتور ترین شخصیات میں سے ایک کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ انہیں ایک ایسا بااثر شخص قرار دیا گیا ہے جو ملک کی جنگی اور سیاسی قیادت میں مرکزی کردار ادا کر رہا ہے۔

 

مبصرین کے مطابق قالیباف نے خاص طور پر علی لاریجانی کے قتل کے بعد اپنے ایکس اکائونٹ پر پوسٹس کے ذریعے اپنے رجحانات کا اظہار کیا۔ وہ ایک ایسے عہدیدار کے طور پر ابھرے ہیں جو پالیسی پیغامات بھیج رہا ہے اور جنگ کے حقائق کو تبدیل کر رہا ہے۔

 

انہوں نے ایک بار آبنائے ہرمز کے بارے میں دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ یہ جنگ سے پہلے جیسی حالت پر واپس نہیں آئے گی۔ پھر انہوں نے اعلان کیا کہ آنکھ کے بدلے آنکھ کی مساوات نافذ ہو چکی ہے اور تصادم کا ایک نیا درجہ شروع ہو گیا ہے جو امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جنگ کی طرف اشارہ تھا۔ ایک اور پوسٹ میں انہوں نے ایرانی میزائل صلاحیتوں کی تباہی سے متعلق امریکی بیانات کا مذاق اڑایا ہے۔ انہوں نے صدر ٹرمپ کی توانائی کے مراکز کو نشانہ بنانے کی دھمکیوں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ایرانی جزائر پر کسی بھی جارحیت کے نتیجے میں تمام تر صبر و تحمل ختم ہو جائے گا۔ ان جارحانہ بیانات کو باقرقالیباف کے موجودہ مرکزی کردار کی علامت سمجھا گیا ۔

 

وہ 23 اگست 1961کو طرقبہ ،خراسان میں پیدا ہوئے۔ قالیباف اپنے عملی انتظامی انداز کے لیے معروف ہیں۔ وہ پاسدارانِ انقلاب کی فضائیہ کے سابق سربراہ ہونے کی حیثیت سے اس طاقت ور تنظیم کے قریب تصور کیے جاتے ہیں۔

 

ان کی عوامی خدمات کی ایک طویل تاریخ ہے۔ وہ قانون نافذ کرنے والے ادارے کے سربراہ یعنی پولیس چیف اورتہران کے میئربھی رہ چکے ہیں۔2020ء میں پارلیمنٹ کے سپیکر بنے۔ان سے پہلے علی لاریجانی اسپیکر تھے، قالیباف چار بار صدارت کے لیے امیدوار رہے۔

 

18 برس کی عمر میں پاسداران انقلاب میں شمولیت اختیار کی، 1980 کی ایران عراق جنگ میں وہ پہلے بریگیڈیئر اور پھر ڈویژن کمانڈر بنے۔1982 میں قالیباف نے صدام حسین کی فورسز سے خرم شہر کو واپس لینے کی کارروائی میں اہم کردار ادا کیا، 1997 میں قالیباف پاسداران انقلاب کی ایئرواسپیس فورس کے کمانڈر مقرر ہوئے۔

 

پاسداران کی سرگرمیوں کے ساتھ انہوں نے اپنی تعلیم جاری رکھی، تہران یونیورسٹی سے پولیٹیکل جیوگرافی میں بیچلرز ڈگری لی۔اس کے بعد انہوں نے اسلامک آزاد یونیورسٹی سے ہیومن جیوگرافی میں ماسٹرز کیا، پھر تربیت مدارس یونیورسٹی سے پولیٹیکل جیوگرافی میں ڈاکٹریٹ کیا۔