اسرائیل کے ایٹمی پلانٹ ڈیمونا کا راز جس نے ٹرمپ کو مذاکرات پر مجبور کیا
یہ پروگرام اتنی رازداری سے شروع کیاگیا کہ کسی اتحادی یامربی ریاست کو بھی کانوں کان خبرنہیں ہوئی
اسرائیلی ایٹمی پلانٹ ڈیمونا کی سیٹلائٹ تصویر
60 کے عشرے کی ابتداہونے سے پہلے ، 1958 میں جب اسرائیلی ریاست نے ایٹمی پروگرام کی باضابطہ بنیادرکھی تو اس نے مروجہ سائنسی طریقہء کار پر عمل کرتے ہوئے ایک جوہری توانائی مرکز کی تعمیر کا آغازکردیا۔جیوش پریس ڈاٹ کام کی 2013ء میں ایک رپورٹ کے مطابق اسرائیلی ایٹمی پلانٹ کو خفیہ رکھنے کے لیے اسے سوک سنٹر(Civic centre) کانام دیاگیاتھا۔
یہ پروگرام اس نے اتنی رازداری سے شروع کیا کہ اپنے کسی اتحادی یامربی ریاست کو بھی کانوں کان خبرنہیں ہونے دی ۔غیر ملکی ماہرین جو اس کی تعمیر پر مامور تھے انہیں بتایاگیاکہ ری ایکٹر ایک واٹر ڈی سیلی نیشن پلانٹ کے لیے ہے۔تاہم جلد ہی اس کی بھنک امریکی انٹیلی جینس ایجنسی سی آئی کے کانوں میں پڑگئی۔امریکی خفیہ اہل کاروں نے اس جگہ کا پتالگانے کی مہم شروع کردی جہاں اطلاعات کے مطابق اسرائیلی ایٹمی پلانٹ بنایاجارہاتھا۔سی آئی اے نے پورے اسرائیلی اور فلسطینی سرزمین کا چپہ چپہ چھان مارالیکن انہیں کوئی سراغ نہیں ملا۔
کہاجاتاہے کہ 1962 سے 1964کے درمیان کسی وقت اسرائیل کا ایٹمی پلانٹ فعال ہوگیاتھا۔امریکی کانگریس کے چارٹریافتہ تحیقی مرکز ولسن سنٹر کے دو محققین ولیم براور ایونر کوہن کی مطالعاتی رپورٹ بتاتی ہے کہ ،ستمبر 1960ء میں ایک امریکی سفارت کارکوصحرائے نقب کے فضائی سفر میں ایک نیا تعمیراتی مقام دکھائی دیا۔سفارت کارنے اپنے ساتھ ہیلی کاپٹر میں سوار اسرائیلی افسر سے اس بارے میں دریافت کیا تو اس نے بتایاکہ وہ دراصل ایک ٹیکسٹائل مل ہے۔
ولسن سنٹر کی دستاویزمیں بتایاگیاہے کہ صدرآئزن ہاور کی انتظامیہ اسی برس یعنی 1960ء کے آخر تک جان چکی تھی کہ اسرائیل ایٹمی پروگرام پر بڑی پیش رفت کررہاہے۔
امریکی حکومت حیران تھی کہ آخر اسرائیل اپنا ایٹمی مرکز کہاں بنارہاہے۔ اس کے جاسوسوں نے کافی بھاگ دوڑ کے بعد یہ معلوم کرلیا کہ اسرائیلی جوہری توانائی کی تنصیبات صحرائے نقب میں کسی جگہ تعمیرہورہی ہیں۔
امریکی سراغ رساں اس دریافت کے باوجودلینگلے کو اس بارے میں کوئی مصدقہ رپورٹ نہیں دے سکے کہ ان کی تلاش کا ہدف،بالکل صحیح طورپر، آخر ہے کہاں۔ بالآخرسی آئی اے کو معاملے کی حقیقت پتاچلی تو اس کے افسران انگلیاں د انتوں میں دابنے پر مجبور ہوگئے کیوں کہ یہ پلانٹ تو ڈیمونامیں زیرزمین بنایاگیاتھا( دنیاکے سامنے یہ بات اس وقت آئی جب ایک منحرف اسرائیلی سائنس دان فرارہوکر برطانیہ چلاگیا اور ایٹمی پروگرام کی تفصیلات بتائیں )۔
حالیہ جنگ میں ایرانی میزائل صحرائے نقب میں گرتے ہی تل ابیب پرلرزہ طاری ہوگیا۔ایٹمی مرکز کوخفیہ رکھنے کی وہ تدبیر چندلمحوں میں بے کار ثابت ہوچکی تھی جسے کم وبیش نصف صدی سے اسرائیلی حکمت عملی کی جان سمجھاجاتارہا۔50سال تک ڈیمونا ایٹمی پلانٹ کے اخفا کا تاثر 50سیکنڈزمیں ختم ہوگیا۔اگرچہ دنیامیں ہر ایٹمی پلانٹ ایک خفیہ مقام ہی ہوتاہے لیکن اسرائیل کے جوہری ہتھیار سازی کا مقام سب سے زیادہ پوشیدہ اور محفوظ ترین تسلیم کیا جاتارہا۔
اسی واقعے کے بعد صدرٹرمپ نے ایران کے توانائی اہداف پر حملوں کا اعلان واپس لیااور پانچ دن تک اسے موخر کرنے کا بیان جاری کیا۔ اور مذاکرات کی بات عالمی ذرائع ابلاغ پر گردش کرنے لگی۔
قبل ازیں ، آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے پانچ دن کی مہلت دینے کے بعد تیل مہنگاہونے پر بازارحصص گرنے کے پیش نظر امریکی صدر ایران کے خلاف عسکری کارروائی سمیٹنے کا عندیہ بھی دے چکے تھے۔
اگرچہ حماس نے بھی 2012 اور 2014 میں اس علاقے کی طرف راکٹ داغے جہاں ڈیمونا کی تنصیبات موجودہیں،ایک بار حزب اللہ نے میزائل داغا لیکن کبھی اسرائیل کوایٹمی مرکز کے لیے خطرہ محسوس نہیں ہوا۔پہلی بار ایرانی حملے کے بعد ایسے آثار نظر آنے لگے ہیں جن سے پتا چلتاہے کہ تل ابیب کی دکھتی رگ پر ہاتھ ڈالا گیاہے۔