عمران خان کے بیٹے قاسم نے پاکستان کا جی ایس پی اسٹیٹس ختم کرنے کا مطالبہ کیا یا نہیں؟

پی ٹی آئی کا مؤقف ہے کہ ایسا کوئی مطالبہ نہیں کیا گیا، خطاب کا مکمل متن سامنے آگیا

               
March 26, 2026 · امت خاص

 

سوشل میڈیا پر جاری بحث میں پی ٹی آئی رہنما عمران خان کے صاحبزادے قاسم خان کے ایک بیان پر شدید اختلاف سامنے آیا ہے۔ پی ٹی آئی رہنماؤں اور حامیوں کا کہنا ہے کہ قاسم خان نے یورپی یونین سے پاکستان کا جی ایس پی پلس اسٹیٹس ختم کرنے کا کوئی مطالبہ نہیں کیا، حکومتی شخصیات اور مسلم لیگ (ن) سے وابستہ حلقے دعویٰ کر رہے ہیں کہ انہوں نے ایسا مطالبہ کیا ہے۔

حقیقت کیا ہے اس کا اندازہ قاسم خان کے مکمل خطاب سے ہو سکتا ہے۔یہ تقریر اقوام متحدہ ہیومن رائٹس کونسل کے کے 61ویں اجلاس کے موقع پر جنیوا میں 25 مارچ 2026 کو ایک سائیڈ ایونٹ کے دوران کی گئی۔ اس ایونٹ کا موضوع پاکستان کا جی ایس پی پلس اسٹیٹس، انسانی حقوق کی شرائط اور بین الاقوامی ذمہ داریاں تھا۔

قاسم خان نے اپنی تقریر میں کہا کہ “میرے والد کے ساتھ جو سلوک کیا جا رہا ہے وہ دراصل اس بات کا امتحان ہے کہ طاقتور حلقے کس حد تک جا سکتے ہیں۔ پاکستان نے جی ایس پی پلس فریم ورک کے تحت بین الاقوامی انسانی حقوق کے معاہدوں پر عملدرآمد کے وعدے کیے تھے، جن میں شہری و سیاسی حقوق کا عالمی معاہدہ اور تشدد کے خلاف کنونشن شامل ہیں۔ میرے والد کی من مانی گرفتاری، تنہائی میں قید، طبی سہولیات سے محرومی، اہل خانہ سے ملاقات پر پابندی اور فوجی عدالتوں میں سویلینز کا ٹرائل—یہ سب ان معاہدوں کی خلاف ورزی ہیں۔میں آج آپ کے سامنے بیٹھا ہوں، میرے والد عمران خان، جو پاکستان کے سابق وزیر اعظم ہیں، 960 دن سے زائد عرصے سے قید میں ہیں۔ انہیں ایک چھوٹی سی کوٹھڑی میں رکھا گیا ہے جو تنہائی کے لیے بنائی گئی ہے، جہاں کیڑے مکوڑے ہیں اور مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔ وہ ڈھائی سال سے زائد عرصے سے ان حالات میں ہیں۔ کیوں؟ کیونکہ انہوں نے پاکستان میں فوج کے سیاسی کردار کو چیلنج کیا‘‘۔

قاسم خان کی تقریر یوٹیوب پر موجود ایک ویڈیو میں دیکھی جا سکتی ہے۔

 

 

قاسم خان نے مزید کہا کہ ’’’’فروری 2024 کے انتخابات میں دھاندلی کی گئی تاکہ میرے والد کی جماعت کو اقتدار میں آنے سے روکا جا سکے۔پاکستان نے جی ایس پی پلس کے تحت انسانی حقوق کے عالمی معاہدوں پر عملدرآمد کا وعدہ کیا تھا۔ میرے والد کی گرفتاری، تنہائی، طبی سہولیات کی عدم فراہمی، اہل خانہ سے ملاقات پر پابندی اور سویلینز کے فوجی ٹرائل ان ذمہ داریوں کی خلاف ورزی ہیں۔میں اور میرا بھائی سیاسی لوگ نہیں ہیں۔ ہم کبھی نہیں چاہتے تھے کہ اس طرح کے فورمز پر آئیں، لیکن ہمارے والد کی زندگی ہمیں مجبور کرتی ہے کہ ہم آواز اٹھائیں۔ ہم خاموش نہیں رہ سکتے جب ان کی صحت بگڑ رہی ہے اور وہ ہم سے دور رکھے جا رہے ہیں۔”

 

دستیاب شواہد کے مطابق قاسم خان نے براہ راست پاکستان کا جی ایس پی پلس اسٹیٹس ختم کرنے کا مطالبہ نہیں کیا۔ تاہم انہوں نے اپنے خطاب میں پاکستان پر اس معاہدے کے تحت انسانی حقوق کی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی کا الزام ضرور عائد کیا۔ ماہرین کے مطابق اگر ایسے الزامات کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کر لیا جائے تو اس کے نتیجے میں پاکستان کا جی ایس پی اسٹیٹس معطل بھی ہو سکتا ہے۔

 

قاسم خان نے بعد میں اپنے ایکس ہینڈل پر اپنی تقریر کا کچھ حصہ شیئر کیا اور دعویٰ کیا کہ انہوں نے پاکستان کیلئے جی ایس پی اسٹیس برقرار رکھنے کی حمایت کی ہے۔