تیزمرچیلے مغلیہ کھانے، خود مغلوں نے کبھی نہیں کھائے

18ویں صدی سے پہلے ہندستان میں لاچ مرچ نہیں تھی۔ پرتگیزی تاجر لے کر آئے

               
March 27, 2026 · کائنات کے رنگ

 

مغلوں نے کبھی مرچیلے مغلیہ کھانے نہیں کھائے۔تاریخ دانوں کا کہناہے کہ دلی میں 18ویں صدی سے پہلے مرچ نہیں تھی۔ مغلیہ کھانوں میں تیز مرچ استعما ل نہیں ہواکرتی تھی۔ کالی مرچ ڈالی جاتی تھی۔

 

پُرتگیزی عیسائی تاجر یورپ سے لال مرچ لے کر انڈیا میں مالا بار کے ساحلوں پر اترے اور مُغل بادشاہ کے دربار میں پہنچے۔اس کے بعد پہلی مرتبہ یہاں کے مقامی کھانوں میں کالی مرچ کی بجائے لال مرچ کا استعمال شروع ہوا ۔

 

اسی طرح پنجاب کا مقبول دیسی کھانا مکئی کی روٹی اور سرسوں کا ساگ ہے۔مکئی بھی جنوبی امریکہ سے آئی ہے۔اسے ہندستان میں ساڑھے تین سوسال سے زیادہ نہیں ہوئے۔

مکئی کو پہلی بار وسط امریکہ میں دریافت کیا گیا ۔ رفتہ رفتہ یہ پورے امریکہ اور پھر دنیا میں متعارف ہوئی۔ دنیا بھر میں مکئی کی سب سے زیادہ پیداوار امریکا میں ہوتی ہے جس کا اندازہ تقریباً 332 ملین میٹرک ٹن سالانہ لگایا گیا ہے۔

 

جب یورپی باشندے نئی دنیا کی تلاش میں براعظم امریکہ آئے تو مکئی یہاں کے مقامی قبائل کی بنیادی خوراک تھی۔ 1621 میں جب مقامی قبائل اور یورپی آبادکاروں نے مل جل کر رہنے کا فیصلہ کیا اور اس موقع پر ایک دعوت کا اہتمام کیا تو اس میں مکئی کے پکوان بھی شامل تھے۔ اس دن کی یاد امریکہ بھر میں ہر سال نومبر کی چوتھی جمعرات کو منائی جاتی ہے جسے یوم تشکر یا ’تھینکس گونگ ڈے‘ کہا جاتا ہے۔

 

مکئی کا شمار امریکہ میں پیدا ہونے والی اہم اجناس میں کیا جاتا ہے اور امریکہ دنیا بھر میں مکئی برآمد کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے۔میکسیکو مکئی استعمال کرنے والا ایک بڑا ملک ہے، لیکن وہ اپنی ضرورت کی زیادہ تر مکئی امریکہ سے درآمد کرتا ہے۔

 

بابر نامہ میں ہندوستانی فصلوں کی تفصیلی فہرست میں مکئی کا ذکر نہیں۔ آئین اکبری بھی اس بارے میں خاموش ہے۔

 

برطانوی مصنف کولین ٹیلر سین نے اپنی کتاب Feasts and Fasts; A history of food in India میں لکھا ہے کہ اپنے ذوق اور پُرتعیش طرز زندگی کا ریکارڈ محفوظ رکھنے کے لیے ایک ہندستانی حکمران غیاث شاہ نے ’نعمت نامہ‘ کے نام سے ایک کتاب مرتب کرائی تھی۔یہ کتاب 1495ء سے 1505ء کے دوران مرتب ہوئی ۔

کولین ٹیلر سین نے ‘نعمت نامہ پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ کتاب سے اندازہ ہوتا ہے کہ گزشتہ صدیوں میں ہندوستان کے کھانوں میں کس طرح تبدیلیاں آئی ہیں۔مثال کے طور پر ‘نعمت نامہ میں نان، پوری اور چپاتی کا تذکرہ تو ملتا ہے لیکن اس میں پراٹھوں کا ذکر نہیں ۔

 

کولین ٹیلر نے ‘نعمت نامہ میں پراٹھوں کا تذکرہ نہ ہونے سے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ یہ بعد کی ایجاد ہیں۔ اسی طرح اس کتاب میں چاول سے تیار ہونے والی درجنوں ڈشز کا تذکرہ ہے اور ان میں کھچڑی تک شامل ہے لیکن حیرت انگیز طور پر اس میں ’پلاؤ‘ کا ذکر نہیں۔

 

جب بھی مغلیہ دور کے کھانوں کی بات ہوتی ہے گوشت، مرغ اور مچھلی سے بنائے کھانوں کا ذکر ہوتا ہے۔لیکن تاریخ کے صفحات پر نظر ڈالی جائے تو یہ حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ اکبر ،جہانگیر اور اورنگزیب سبزیوں اور ترکاریوں کے دلدادہ تھے۔اکبر گوکہ ایک عمدہ شکاری تھا لیکن اسے گوشت سے کوئي خاص رغبت نہیں تھی ۔جہانگیر کو بھی گوشت زیادہ مرغوب نہیں تھا۔

 

رقعات عالمگیری کے مطابق اورنگزیب اچھے کھانوں کا شوقین تھالیکن بادشاہ سلامت نے تاج کیا پہنا اور جنگ و جدال کی سرگرمیوں میں ایسے الجھے کہ لذت کام ودہن کا ذوق داستان پارینہ بن گیا اور اورنگزیب گوشت سے تیار مرغن کھانوں سے پرہیز کرنے لگا۔ ان کا دسترخوان سادہ کھانوں پرمشتمل ہوتاتھا اور شاہی باورچی ترکاریوں اور سبزیوں کے اعلیٰ سادہ پکوان بنانے کی حتی الامکان کوشش کیا کرتے تھے۔

 

تازہ پھل شہنشاہ اورنگزیب کی کمزوری تھے۔قعات عالمگیری میں بیشتر جگہ آم کا ذکر ملتا ہے۔گندم سے بنے کباب اور چنے کی دال سے بنے پلاؤ اورنگزیب کی پسندیدہ غذا تھی۔ پنیر سے بنے کوفتے اور تازہ پھلوںسے بنی غذائی عہد اورنگزیب کی دین ہیں۔