پاکستان نے ایران کے ساتھ تجارت کے لیے برآمدی قوانین میں عارضی نرمی کر دی

24 مارچ سے 21 جون 2026 تک مخصوص اشیا کی ایران کو برآمدات کے لیے بینک گارنٹی یا مالیاتی دستاویز کی شرط ختم کر دی گئی ۔

               
March 27, 2026 · اہم خبریں, قومی, کامرس
فائل فوٹو

فائل فوٹو

اسلام آباد:  پاکستان نے ایران اور وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ تجارت کو سہل بنانے کے لیے ایک اہم اور غیر معمولی فیصلہ کرتے ہوئے برآمدی قوانین میں عارضی نرمی کر دی ہے۔ وزارتِ تجارت کی جانب سے جاری کردہ اس فیصلے کے تحت 24 مارچ سے 21 جون 2026 تک مخصوص اشیا کی ایران کو برآمدات اور ایران کے راستے وسطی ایشیائی ریاستوں تک چاول کی ترسیل کے لیے بینک گارنٹی یا مالیاتی دستاویز کی شرط ختم کر دی گئی ہے۔

ماضی میں پاکستان سے برآمدات کے لیے اسٹیٹ بینک کے قواعد کے تحت لیٹر آف کریڈٹ یا ایڈوانس ادائیگی جیسے بینکاری ذرائع لازمی تھے تاکہ زرِ مبادلہ کی واپسی کو یقینی بنایا جا سکے، تاہم ایران کے ساتھ کمزور بینکاری روابط اور عالمی پابندیوں کے باعث یہ شرط عملی طور پر تجارت میں بڑی رکاوٹ بن چکی تھی۔ اسی وجہ سے دونوں ممالک کے درمیان زیادہ تر تجارت غیر رسمی یا بارٹر سسٹم کے تحت ہوتی رہی ہے۔

حکومت کا یہ اقدام ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب افغانستان کے ساتھ کشیدگی اور سرحدی بندشوں نے پاکستان کی وسطی ایشیا تک رسائی کو شدید متاثر کیا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025 کے پہلے چھ ماہ میں افغانستان کو برآمدات میں 56 فیصد سے زائد کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ وسطی ایشیائی ممالک کو برآمدات بھی پہلے ہی دباؤ کا شکار تھیں۔

نئی پالیسی کے تحت ایران کو خوراک اور زرعی اجناس سمیت مختلف مصنوعات برآمد کی جا سکیں گی جن میں سمندری غذا، گوشت، سبزیاں، پھل، فارماسیوٹیکل مصنوعات اور دیگر اشیاء شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ایران کے زمینی راستے کو استعمال کرتے ہوئے وسطی ایشیائی ریاستوں اور آذربائیجان تک چاول کی برآمد کی اجازت بھی دی گئی ہے۔

حکومت نے واضح کیا ہے کہ یہ نرمی مستقل نہیں بلکہ ایک عارضی اقدام ہے، جس کا مقصد موجودہ علاقائی حالات میں تجارت کو جاری رکھنا اور متبادل راستوں کا جائزہ لینا ہے۔ برآمد کنندگان کو اس بات کا پابند بنایا گیا ہے کہ وہ مقررہ مدت میں زرِ مبادلہ ملک میں واپس لائیں، اگرچہ اس شرط پر عملدرآمد کو یقینی بنانا ہمیشہ ایک چیلنج رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق ایران کے راستے تجارت کو فروغ دینے کا یہ فیصلہ نہ صرف فوری معاشی دباؤ کم کرنے کی کوشش ہے بلکہ یہ ایک تجربہ بھی ہے کہ آیا ایران پاکستان کے لیے وسطی ایشیا تک ایک قابلِ عمل تجارتی راہداری بن سکتا ہے یا نہیں۔ خاص طور پر ایسے وقت میں جب خطے کے دیگر ممالک اپنی تجارتی راہیں تبدیل کر رہے ہیں اور افغانستان بھی ایران اور وسطی ایشیا کی جانب جھکاؤ بڑھا رہا ہے۔

یہ اقدام ایک طرف برآمدات کو سہارا دے سکتا ہے، خاص طور پر جلد خراب ہونے والی اشیاء کے لیے، لیکن دوسری جانب اس سے زرِ مبادلہ کے نظام اور سرحدی کنٹرول سے متعلق خدشات بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔ آنے والے مہینوں میں اس پالیسی کے حقیقی اثرات کا اندازہ تجارتی اعداد و شمار سے ہی لگایا جا سکے گا۔