عاشرعظیم اور ڈاکٹرعائشہ صدیقہ کی سوشل میڈیاپر لفظی جنگ۔ایک دوسرے کو پھپھو کاخطاب دے دیا
کاش آپ نے بھی نوٹس رکھے ہوتے۔ب آپ کا رویہ تبدیل ہو گیا ہے۔جوابی پوسٹ
عاشر عظیم۔ عائشہ صدیقہ ، فائل فوٹوز
سکالر اور عسکری امور کی تجزیہ کار ڈاکٹر عائشہ صدیقہ نےسابق سول سروس افسر اور یوٹیوب چینل کے مالک عاشر عظیم گل پر جوابی طنزکرتے ہوئے کہا ہےکہ ہر فیملی میں نوٹس رکھنے والی ایک پھپھو ہوتی ہے، لیکن وہ خود اپنے پرانے بیانات کے نوٹس نہیں رکھتے۔
عائشہ صدیقہ نے یاد دلایا کہ عاشر عظیم نے ان سے اپنے یوٹیوب چینل پر انٹرویو میں پاکستان کی فوج اور فرنٹیئر کور (ایف سی) پر الزامات لگائے تھے۔ اس وقت ان کا فوج سے ذاتی پراپرٹی کا تنازع بھی تھا۔ اب وہ فوج کے حامی بن چکے ہیں۔
Mr Gill I wish you had kept notes too to remind yourself when you interviewed me for your pathetic YouTube channel & spoke about army’s extraction in Baluchistan and how corrupt they were. Then u had some personal property issue with the army. I don’t have business issues with… https://t.co/pF6sc2fQlv
— Ayesha Siddiqa (@iamthedrifter) March 26, 2026
عائشہ صدیقہ نے لکھاکہ کاش آپ نے بھی نوٹس رکھے ہوتے۔ب آپ کا رویہ تبدیل ہو گیا ہے۔ میں سکالر ہوں، میرا فوج سے کوئی کاروباری تنازع نہیں، صرف نوٹس رکھنے کا کام ہے۔ آپ نے کرپشن کے الزامات لگانے کے بعد ملک چھوڑ دیا۔
عائشہ صدیقہ نے یہ بھی اشارہ کیا کہ عاشر اب یا تو لالچ میں یا کسی اور وجہ سے فوج کے حامی بن گئے ہیں۔عائشہ صدیقہ نے یہ بھی کہا کہ عاشر عظیم ان کے بیچ میٹ ہیں اور وہ عام طور پر ان کی ’’سلی‘‘ باتوں کو نظر انداز کرتی رہیں، لیکن اب انہوں نے جواب دینا مناسب سمجھا۔
عاشر عظیم گل نےڈاکٹر عائشہ صدیقہ کی ایک پوسٹ کے جواب میں طنزیہ انداز میں یہ ٹویٹ کیا تھاکہ ہر خاندان میں ایک شک کرنے والی پھوپھو ہوتی ہے جو سب کچھ نوٹ کرتی رہتی ہے۔
یہ ٹویٹ عائشہ صدیقہ کے ایک حالیہ تجزیے یا پوسٹ پر ان کے نوٹس رکھنے والے انداز پر طنز تھا۔ عاشر عظیم انہیں شک کرنے والی پھوپھوکہہ کر مذاق اڑا رہے تھے۔
Every family has a skeptic phupo for keeping notes. 😒
— Asher Azeem Gill 🇨🇦 🇵🇰 (@ashirazeemgill) March 25, 2026
عائشہ صدیقہ نےپہلے اپنی پوسٹ میں حکومت پر طنزیہ تبصرہ کیا تھا۔اس میں انہوں نے لکھا تھا کہ اسلام آباد ابھی بہت مصروف ہے، ورنہ کسی کو اس ‘اسٹریٹیجک پارٹنر’ کی باتوں کا نوٹ کرنا چاہیے تھا۔
یہ تبصرہ بنگلہ دیشی وزیراعظم طارق رحمان کی ایک پوسٹ کا کوٹ کر کے کیا گیاتھا۔