سیکیورٹی خدشات پر تبلیغی جماعت کے 7 غیر ملکی ارکان چکوال سے بے دخل

کوہستان کے رہائشی امیر رسول شاہ کی قیادت میں 14رکنی وفد مقامی انتظامیہ کو مطلع کیے بغیر آیاتھا

               
March 28, 2026 · قومی

تبلیغی جماعت۔ فائل فوٹو

 

سیکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر تبلیغی جماعت کے وفد میں شامل سات غیر ملکیوں کو چکوال سے نکال دیا گیا۔انگریزی اخبارکے مطابق،سیکیورٹی ایجنسیوں نے جمعرات کی شام اس وقت کارروائی کی جب انہیں شہر کے مرکز میں واقع ایک مسجد میں سات غیر ملکیوں کی موجودگی کی اطلاع ملی۔

 

ڈی پی او کاشف ذوالفقار نےتصدیق کی کہ ان افراد کو واپس لاہور بھیج دیا گیا ہے کیونکہ وہ مقامی انتظامیہ کو مطلع کیے بغیر چکوال پہنچے تھے۔ 14 ارکان پر مشتمل اس وفد کی قیادت کوہستان کے رہائشی امیر رسول شاہ کر رہے تھے۔ ان چودہ ارکان میں سے سات غیر ملکی تھے۔

 

ذرائع بتایا کہ یہ وفد متعلقہ حکام کو اطلاع دیے بغیرکئی دنوں سے چکوال میں تبلیغی سرگرمیوں میں مصروف تھا۔ تاہم، عید کے تیسرے دن ایک تھریٹ (سیکیورٹی الرٹ) جاری کیا گیا تھا جس میں مطلع کیا گیا تھا کہ فتنۃ الخوارج کے ارکان مبلغین کے روپ میں کارروائی کر سکتے ہیں، وہ حساس تنصیبات کا ڈیٹا اکٹھا کر سکتے ہیں اور پنجاب میں دہشت گردی بھی کر سکتے ہیں۔

 

اخبارنے سرکاری اہلکارکے حوالے سے کہا ہے کہ جیسے ہی سیکیورٹی ایجنسیوں کو یہ تھریٹ موصول ہوا، پورے صوبے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا۔ چکوال میں جمعرات کی شام سات غیر ملکیوں کی موجودگی کی اطلاع ملی۔ جب حکام کو پتہ چلا کہ سات غیر ملکی گرلز کالج روڈ پر واقع اویسیہ مسجد میں ٹھہرے ہوئے ہیں، تو وہ فوری طور پر مسجد پہنچے اور غیر ملکیوں کا ڈیٹا اکٹھا کیا۔

 

ضلعی انتظامیہ نے انہیں فوری طور پر چکوال چھوڑنے کا حکم دیا، لیکن ان کے مقامی میزبانوں نے انتظامیہ سے درخواست کی کہ غیر ملکیوں کو رات وہیں گزارنے دی جائے کیونکہ رات کے وقت سفر کرنا مشکل تھا۔ یہ درخواست منظور کر لی گئی اور غیر ملکیوں کی سیکیورٹی کے لیے چکوال پولیس کے اہلکار پوری رات مسجد کے باہر الرٹ رہے۔ تاہم، صبح ہوتے ہی پولیس نے پورے وفدکو بلکسر انٹرچینج تک اپنی حفاظت میں پہنچایاتاکہ وہ واپس جا سکیں۔

 

ایک اہلکار نے بتایا کہ اپنے شیڈول کے مطابق ان مبلغین کو 29 مارچ تک چکوال میں قیام کرنا تھا، لیکن سیکیورٹی خدشات کی بنا پر انہیں وقت سے پہلے واپس بھیج دیا گیا۔