امریکہ اور اسرائیل کو مذاکرات سے پہلے میدان جنگ میں مضبوط پوزیشن کی تلاش

موجودہ حالات کے پیش نظر ٹرمپ اور نیتن یاہو کا امن پر آمادہ ہونا ممکنات سے دور۔منہ توڑ ایرانی جواب نے سارے اندازےغلط ثابت کر دیے

               
March 29, 2026 · امت خاص
فائل فوٹو

ٹرمپ اور نیتن یاہو

اسلام آباد: تجزیہ: جاوید صدیق

ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کا سفارتی حل تلاش کرنے کے لئے سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ اسلام آباد میں سر جوڑ کر بیٹھے ہیں،پاکستان سر توڑ کوشش کر رہا ہے کہ دوست ملکوں کے تعاون سے جنگ کے شعلوں کو بجھا دیاجائے لیکن دوسری طرف میدان جنگ کی صورت حال یہ ہے کہ ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے فضائی حملوں میں شدت آرہی ہے۔

ٹرمپ کے اعلان کے باوجود سلسلہ رکا نہیں۔ ایرانی ایٹمی تنصیبات کے علاوہ اس کے دو اہم اہداف کو بمباری کر کے شدید نقصان پہنچایا گیا ہے۔

سفارتی حلقوں کا خیال ہے مذکرات کی میز پر آنے سے پہلے امریکہ اور اسرائیل مضبوط پوزیشن چاہتے ہیں۔ لیکن ایرانی قیادت کا خیال ہے کہ واشنگٹن اور تل ابیب ایران کو عسکری اور معاشی اعتبار سے مفلوج کرکے اپنے مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔جواباً اس نے بھی اسرائیل پر میزائل اور ڈرون حملوں میں شدت پیدا کر دی ہے۔

ادھر یمن کے حوثیوں نے بھی اسرائیل پر حملے شروع کر دئیے ہیں۔ جنگ کے شعلوں کی شدت بڑھتی جا رہی ہے۔ جس کے باعث سفارتی کوششوں کی کامیابی پر شبہات کا اظہار کیا جارہا ہے۔ تاہم جنگ اور مذاکرات اپنے اپنے ٹریک پہ جاری رہ سکتے ہیں۔اس بات پر امریکہ سمیت دنیا بھر کے عسکری ماہرین متفق ہیں کہ امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملہ کرکے اُسے سرینڈر کرنے پر مجبور کرنے کے حوالے سے غلط اندازے لگائے تھے۔ واشنگٹن اور تل ابیب دونوں کو غلط فہمی تھی کہ ایران کی فوجی اور توانائی تنصیبات کو تباہ کرنے سے وہ ایران کو جھکا لیں گے ۔ اُن کی یہ بھی بہت بڑی غلط فہمی تھی کہ ایران کی سرکردہ قیادت کو ختم کرکے ایران میں افراتفری پیدا کی جاسکتی ہے اور تہران میں اپنی مرضی کی حکومت مسلط کی جاسکتی ہے۔یہ سارے اندازے اور انٹلیجنس رپورٹس ناکارہ ثابت ہوئی ہیں ۔

امریکہ اور اسرائیل نے بین الاقوامی قوانین کی دھجیاں اُڑاتے ہوئے اُس وقت ایران پر حملے شروع کیے جب واشنگٹن اور تہران میں مذاکرات ہو رہے تھے ۔ ایران کو دھوکہ دے کر اُس کی خود مختاری کی خلاف ورزی کی گئی ۔ یہ بات بھی طے ہے کہ خود امریکی عوام کی اکثریت اس جنگ کے خلاف ہے ۔ پیو(PEW )سروے کے مطابق انسٹھ فیصد امریکی صدر ٹرمپ کی شروع کی گئی جنگ کے سراسر خلاف ہیں۔گزشتہ چار ہفتوں میں امریکہ اربوں ڈالر اس جنگ میں جھونک چکا ہے ۔ روازنہ کی بنیاد پر یہ اربوں ڈالر جنگ کے شعلوں کی نذر ہو رہے ہیں ۔

دوسری طرف ایران کی نہ صرف اخلاقی پوزیشن مضبوط ہے بلکہ اس نے دو جارح ملکوں کی عسکری قوت کا وہ سارا پول بھی کھول دیا ہے جس پر امریکہ اور اسرائیل کو بڑا ناز تھا۔ جغرافیہ ایران کی مدد کر رہاہے ۔ایران نے نہ صرف عسکری اعتبار سے اپنی جوابی کارروائی سے دنیا کو حیران کردیاہے بلکہ اُس نے آبنائے ہرمز کا کارڈ استعمال کرکے عالمی معیشت کو بھی ہلا کر رکھ دیا ہے۔امریکہ میں مہنگائی بڑھ گئی ہے جس سے امریکی سخت پریشان ہیں اور ٹرمپ انتظامیہ کے لتے لے رہے ہیں ۔

ایران کی جوابی کاروائی نے پورے مشرق وسطی میں ایک طرح کا زلزلہ برپا کر دیا ہے ۔ بحرین ، قطر ، متحد ہ عرب امارات ، اُردن اور سعودی عرب میں واقع امریکی اڈوں پر ایرانی میزائل اورڈرون کاری ضربیں لگا رہے ہیں ۔ یہ امریکی اڈے اب غیر موثر ہو تے جا رہے ہیں۔اس کے فوجی یہ اڈے خالی کر کے ایرانی میزائلوں کی رینج سے دور جانے لگے ہیں۔

صدر ٹرمپ دعویٰ کر رہے ہیں کہ اُنہوں نے ایران کی فضائیہ ،بحریہ اور میزائل صلاحیت کو تباہ کر دیا ہے لیکن ایرانی میزائلوں کے حملوں میں شدت آتی جا رہی ہے۔ لگتا ہے کہ یہاں بھی امریکہ اوراسرائیل کی انٹیلی جنس ناکام ہے۔اسلام آباد میں سفارت کاری کے ذریعہ جنگ کے خاتمے کی کوششیں ہو رہی ہیں ۔ لیکن میدان جنگ مزید گرم ہو رہا ہے ۔ آبنائے ہرمز کے گرد ایران گھیرا تنگ کر رہا ہے اور عالمی معیشت لڑکھڑا رہی ہے لیکن فی الحال ٹرمپ اور نیتن یاہو امن کی طرف آنے کا ارادہ نہیں رکھتے ۔