ایران جنگ رکوانے کے لیے اسلام آباد تمام سفارتی کوششوں کا مرکز بن گیا، عالمی میڈیا

فیصلہ کن مذاکرات پاکستانی دارالحکومت کی میزبانی میں کرانے پر بین الاقوامی حمایت

               
March 30, 2026 · امت خاص

 

غیر ملکی ذرائع ابلاغ نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف امریکہ اسرائیل جنگ کو ختم کرنے کی کوششوں کے لیے اسلام آباد تمام سفارتی سرگرمیوں کا مرکز بن گیا ہے۔

 

الجزیرہ نے رپورٹ کیا ہے کہ چار ملکی ملاقاتیں ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جس پر ابتدائی طور پر سعودی دارالحکومت ریاض میں تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔ ڈار، جو پاکستان کے وزیر خارجہ بھی ہیں، اب اس فاؤنڈیشن کو ایک علاقائی بلاک بنانے کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو بالآخر انڈونیشیا اور ملائیشیا سمیت وسیع تر طاقتوں کو اکٹھا کر سکے۔

 

ترکی میں مقیم ایک سیاسی تجزیہ کار محمود علوش نےکہا ہے کہ اسلام آباد کا اجتماع خطے میں اسرائیلی منصوبے کا مقابلہ کرنے، اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے جغرافیائی سیاسی خلا کو دور کرنے اور مستقبل میں امریکی شمولیت سے متعلق غیر یقینی صورتحال کو کم کرنے کے لیے “اسلامی اتحاد” کے لیے ایک بنیادی قدم کے طور پر کام کرتا ہے۔

 

نائب وزیراعظم اور وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ خطے میں جاری تنازع کے خاتمے اور امن کے لیے پاکستان بھرپور اقدامات کر رہا ہے اور آنے والے دنوں میں اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کی میزبانی کے لیے تیار ہے، جس کے لیے دونوں ممالک نے اعتماد کا اظہار کیا ہے۔

 

اسحاق ڈار نے چار فریقی اجلاس کے متعلق گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ سعودی عرب، ترکیہ اورمصر کے وزرائے خارجہ سے دو طرفہ تعمیری ملاقاتیں ہوئی اور تینوں کی وزیراعظم شہباز شریف سے بھی ملاقات ہوئی۔

 

نائب وزیراعظم نے ممکنہ امریکا ایران مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ اجلاس میں شریک وزرائے خارجہ نے اسلام آباد میں ایسے کسی بھی سفارتی اقدام کی مکمل حمایت کا اظہار کیا، جس کا مقصد کشیدگی میں کمی، عسکری تصادم کے خطرات کو کم کرنا اور بامعنی مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا ہو۔

 

وزیرِ خارجہ نے مزید بتایا کہ یہ خوشی کی بات ہے کہ ایران اور امریکہ نے مذاکرات میں سہولت کاری کے لیے پاکستان پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔آنے والے دنوں فریقین کے درمیان مذاکرات کی میزبانی اور سہولت کاری پاکستان کے لیے اعزاز کی بات ہوگی۔

وزارت خارجہ سے جاری بیان کے مطابق، اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ اس معاملے پر ان کی چینی وزیر خارجہ وانگ یی کے ساتھ ٹیلیفون پر تفصیلی بات چیت ہوئی ہے۔

 

ڈار کے مطابق چین ایران اور امریکہ مذاکرات کی میزبانی کے لیے پاکستان کے اقدام کی مکمل حمایت کرتا ہے۔

 

ڈار کا مزید کہنا تھا کہ ان کی اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل سے بھی ٹیلی فونک بات چیت ہوئی۔ سیکرٹری جنرل نے بھی پاکستان کے امن اقدام کی مکمل حمایت کا اظہار کیا ہے۔

 

بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے وزیرِ خارجہ نے مختلف ممالک میں اپنے ہم منصبوں کے ساتھ بات چیت کی ہے اور ان سب نے پاکستان کی کوششوں کے لیے مکمل حمایت اور اعتماد کا اظہار کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی کوششوں کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے اور دوست ممالک کی جانب سے بھرپور حمایت حاصل ہے، جبکہ پاکستان خلوص نیت اور عزم کے ساتھ اپنی کاوشیں جاری رکھے گا۔

 

آخر میں انہوں نے کہا کہ امن کے قیام اور اس جنگ کے مستقل خاتمے کے لیے پاکستان کی کوششوں کی کامیابی کے لیے پوری عالمی برادری کی دعاؤں اور تعاون کی ضرورت ہو گی۔

 

چار ملکی اجلاس منعقد ہونے سے قبل نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ترکیہ، مصر اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ ملاقاتیں بھی کیں۔

 

وزیراعظم شہباز شریف نے بھی 4 ممالک کے وزرائے خارجہ کو مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر اپنے نکتہ نظر سے آگاہ کردیا ۔

 

اسلام آباد میں شہباز شریف نے سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں کیں جس میں معزز مہمانوں کو پاکستان کی سفارتی کاوشوں سے آگاہی دی گئی۔

وزرائے خارجہ نے دوران گفتگو وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت کو خراج تحسین پیش کیا ۔