وزن کم کرنے کے لیے ‘شوگر فری’ مصنوعات کا استعمال: حقیقت یا میٹھا دھوکہ؟

جو لوگ باقاعدگی سے شوگر فری اشیاء استعمال کرتے ہیں، ان میں بھوک کی شدت بڑھ جاتی ہے

               
March 30, 2026 · کائنات کے رنگ

اکثر لوگ بڑھتے ہوئے وزن سے چھٹکارا پانے کے لیے شوگر فری مصنوعات کو بہترین حل سمجھتے ہیں، لیکن جدید سائنسی تحقیق نے اس مفروضے کو غلط ثابت کر دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق مصنوعی مٹھاس (Sweeteners) اگرچہ کیلوریز میں کمی کا باعث بنتی ہے، تاہم یہ وزن کم کرنے میں مددگار ثابت نہیں ہوتی بلکہ بعض صورتوں میں وزن بڑھنے کی وجہ بھی بن سکتی ہے۔

حالیہ طبی مطالعہ جات سے یہ دلچسپ حقیقت سامنے آئی ہے کہ جو لوگ باقاعدگی سے شوگر فری اشیاء استعمال کرتے ہیں، ان میں بھوک کی شدت بڑھ جاتی ہے۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ مصنوعی مٹھاس دماغ کو مٹھاس کا سگنل تو دیتی ہے لیکن جسم کو مطلوبہ توانائی فراہم نہیں کرتی، جس کے نتیجے میں انسان بعد میں زیادہ کھانا کھانے لگتا ہے۔ یوں ابتدا میں بچائی گئی کیلوریز بعد میں دگنی ہو کر جسم کا حصہ بن جاتی ہیں۔

عالمی ادارہ صحت (WHO) نے بھی اس حوالے سے خبردار کیا ہے کہ صرف مصنوعی مٹھاس پر انحصار کر کے وزن کم کرنا کوئی دیرپا یا مؤثر حل نہیں ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ سویٹنرز انسانی میٹابولزم اور آنتوں کے مفید بیکٹیریا پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں، جو وزن کے توازن کو بگاڑ سکتے ہیں۔

طبی ماہرین نے واضح کیا ہے کہ وزن میں کمی کے لیے کوئی شارٹ کٹ موجود نہیں ہے۔ اس مقصد کے لیے متوازن غذا، باقاعدہ ورزش، بھرپور نیند اور مجموعی طور پر صحت بخش طرزِ زندگی ہی اصل “گیم چینجر” ثابت ہوتے ہیں۔ محض شوگر فری لیبل والی اشیاء کا انتخاب وزن کم کرنے کے بجائے ایک “میٹھا دھوکہ” ثابت ہو سکتا ہے۔