کوزے میں دریا اورتیل کا بینک خارگ۔جس پر 4عشروں سے ٹرمپ کی نظریں ہیں

80کی دہائی میں جنگ کے دوران عراق نے اس پر 3ہزارحملے کیے تھے

               
March 30, 2026 · امت خاص

تصویر: جیوگرافیکل میگزین

 

ایرانی جزیرہ خارگ ایک ایسا آئل کمپلیکس بلکہ تیل کا بینک ہے جس پر ٹرمپ کی 4عشروں سے نظریں ہیں۔80کی دہائی میں جنگ کےدوران عراق نے اس پر3ہزارحملے کیے تھے۔ چالیس سال قبل اسی جنگ کے دوران برطانوی اخبار کو انٹرویو میںڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ اگر ایران نے امریکی ٹھکانوں پر حملہ کیا تو جزیرہ خارگ پر قبضہ کر لیا جائے گا۔

 

تب ٹرمپ نے سیاست میں قدم نہیں رکھا تھا اور اُنھوں نے ایک کاروباری شخصیت کے طور پر یہ انٹرویو دیا تھا۔اس انٹرویو میں ٹرمپ نے 1980 سے 1988 کے دوران جاری رہنے والی ایران،عراق جنگ پر تبصرہ کیا تھا۔ ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ اگر وہ صدر بنے تو ایران کے ساتھ کیا کریں گے؟ اس پر ٹرمپ نے کہا تھا کہ میں ایران پر سختی کروں گا اگر اُنھوں نے ہمارے کسی جہاز پر ایک بھی گولی چلائی تو میں ان کے جزیرے خارگ پر قبضہ کر لوں گا۔

 

جزیرہ ایران کی تیل کی برآمدات کے لحاظ سے بہت اہم ہے اور تیل کی برآمدات کا بڑا ٹرمینل بھی یہاں موجود ہے۔خارگ کو خام تیل کی برآمد اور لوڈنگ کے لیے سب سے موزوں مقام سمجھا جاتا ہے، کیونکہ اس کی ملک کے جنوبی تیل سے مالا مال خطوں سے قربت، اچھی بحری جگہ، بڑے آئل ٹینکرز کے لنگر انداز ہونے کے لیے گہرے پانی جیسی سہولیات ہیں۔ایرانی آئل ٹرمینلز کمپنی کے مطابق خارگ میں خام تیل ذخیرہ کرنے کے 40 ٹینکس ہیں جہاں دو کروڑ بیرل سے زیادہ تیل رکھا جا سکتا ہے۔ ملک کے جنوب میں تیل کی دولت سے مالا مال علاقوں سے نکالا جانے والا خام تیل زیرِ سمندر پائپ لائنز کے ذریعے خارگ سٹوریج ٹینکوں میں داخل ہوتا ہے۔

 

دسمبر 2023 میں ایرانی آئل ٹرمینلز کے چیف ایگزیکٹو آفیسر عباس غریبی نے جزیرہ خارگ پر خام تیل ذخیرہ کرنے کی گنجائش میں 20 لاکھ بیرل اضافے کا اعلان کیا تھا۔

 

خام تیل ذخیرہ کرنے کے علاوہ خارگ میں برآمد کے لیے خام تیل کی اقسام کی پیمائش اور انھیں الگ کرنے کا عمل بھی کیا جاتا ہے۔

 

جزیرے کے مشرق اور مغرب میں خارگ کے دو گھاٹ ہیں۔ 1955 میں، تیل کنسورشیم کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کرنے کے بعد خارگ میں لوڈنگ ڈاکس اور خام تیل ذخیرہ کرنے والے ٹینکوں کی تعمیر کا منصوبہ شروع ہوا۔

 

خارگ میں خام تیل کا معیار جانچنے کے لیے ایک لیبارٹری بھی ہے۔ یہ لیبارٹری بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ ہے۔ ایرانی آئل ٹرمینلز آرگنائزیشن کا دعویٰ ہے کہ یہ دنیا کی بہترین لیبارٹریز میں سے ایک ہے۔

 

آٹھ ہزار سے زائد آبادی والے خارگ میں اسلامی آزاد یونیورسٹی بھی ہے جو میرین سائنس اور آرٹس کی ایک شاخ ہے۔ اس یونیورسٹی میں مطالعہ کے سب سے اہم شعبوں میں سے ایک پیٹرولیم اور سمندری مطالعہ بھی ہے۔

 

ایران عراق جنگ کے دوران ایران کی تیل کی 90 فیصد سے زیادہ برآمدات خارگ کے راستے ہوتی تھیں، یہی وجہ ہے کہ عراق نے اس چھوٹے سے جزیرے پر 2800 بار حملہ کیا۔

 

جریدہ جیوگرافیکل کے مطابق، 1986 تک، ٹرمینل کے زیادہ تر ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا یا اسے عارضی طور پر ناکارہ بنا دیا گیا۔ تاہم، بار بار ہونے والے فضائی حملوں کے باوجود، ایران جنگ کے دوران خارک سے تیل کی برآمدات جاری رکھنے میں کامیاب رہا۔ جنگ کے بعد، ایران نے ان تنصیبات کی مرمت اور توسیع میں کئی سال صرف کیے۔

 

شمالی خلیج فارس کے پانیوں میں گھرا ہوا جزیرہ خارگ محض پانچ میل طویل زمین کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا ہے۔ اپنی مختصر جسامت کے باوجود، یہ ایران کی تقریباً تمام تیل کی برآمدات کے لیے ایک کلیدی ٹرمینل کا کام کرتا ہے، جس کی لوڈنگ کی گنجائش روزانہ تقریباً 70 لاکھ بیرل ہے۔گویاکوزے میں دریابندہے۔

 

خارگ کی سٹرٹیجک اہمیت پہلی بار 1960 کی دہائی میں سامنے آئی۔خلیج فارس اور جنوبی ایران میں سمندر برد (آف شور) تیل کے ذخائر کی دریافت کے بعد، اس جزیرے کو ایک بڑے خام تیل کے برآمدی ٹرمینل کے طور پر تیار کیا گیا جسے پائپ لائنوں کے ذریعے سمندری پلیٹ فارمز اور صوبہ خوزستان میں زمین پر موجود تیل کے ذخائر سے جوڑ دیا گیا۔ ایران کی زیادہ تر ساحلی پٹی گاد (مٹی) سے بھری اور اتنی کم گہری ہے کہ تیل کی صنعت میں استعمال ہونے والے بڑے ٹینکرز وہاں نہیں آ سکتے، لیکن خارگ کا محل وقوع اسے گہرے پانیوں کے کافی قریب بناتا ہے۔

 

1970 کی دہائی کے اوائل تک، اس انفراسٹرکچر نے خارگ کو ایران کے سب سے بڑے آئل لوڈنگ ٹرمینل میں تبدیل کر دیا تھا۔

 

جزیرے پر تیل کی آمد سے پہلے بھی، خلیج فارس کی تجارت اور سمندری ثقافت میں اس جزیرے کا ایک اہم کردار تھا۔قرونِ وسطیٰ کے ذرائع کے مطابق، دسویں صدی کے آخر تک یہ جزیرہ قیمتی موتیوں کے حصول اور خلیجی تجارت کے مرکز کے طور پر جانا جاتا تھا۔ 17ویں صدی میں، سیاحوں نے اسے ایک تجارتی پڑاؤ کے طور پر بیان کیا جو بصرہ، بندر ریگ اور ایران کے اندرونی حصوں سے جڑا ہوا تھا۔

 

جہاز رانی کے راستوں پر اپنی بہترین لوکیشن کی وجہ سے یہ ایک ایسی جگہ بھی تھی جہاں سے بحری جہاز بصرہ کے قریب کم گہرے پانیوں میں رہنمائی کے لیے خلیج کے تجربہ کار ملاح کرائے پر لے سکتے تھے۔