تیل کی عالمی منڈی مذاکرات سے ناامید۔قیمتوں میںریکارڈ اضافہ
یمنی حوثیوں کی جانب سے اسرائیل پر حملوںکے بعدمارکیٹ ایران کی جنگ میں شدت کے لیے تیار
تیل کی مارکیٹ مذاکرات سے ناامید ہوکرا یران کی جنگ میں شدت کے لیے تیارہے۔
برینٹ خام تیل کی قیمت ریکارڈ ماہانہ اضافے کی جانب گامزن ہے،یہ صورتحال یمنی حوثیوں کی جانب سے اسرائیل پر حملوںکے بعد پیدا ہوئی۔
برینٹ کروڈ فیوچرز (Brent crude futures) 3اعشاریہ 94ڈالر ساڑھے تین فیصد اضافے کے ساتھ116 اعشاریہ 51 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئے۔جمعہ کو اس میں4اعشاریہ 2 فیصد اضافہ ہوا تھا۔ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ1اعشاریہ 86ڈالر یا1اعشاریہ 87فیصد اضافے کے ساتھ102اعشاریہ 14ڈالر فی بیرل پر رہا، جو گزشتہ سیشن میں 5.5 فیصد اضافے کے بعد ہے۔
آئل مارکیٹ تجزیہ کار ادارے انڈا انسائٹس کی بانی وندنا ہری کا کہنا ہے کہ مارکیٹ نے جنگ کے مذاکراتی خاتمے کے امکان کو تقریباً نظر انداز کر دیا ہے، اس کے باوجود کہ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری براہ راست اور بالواسطہ مذاکرات کے دعوے کیے ہیں۔ مارکیٹ اب فوجی دشمنی میں شدید اضافے کے لیے تیار ہو رہی ہے، جو خام تیل کی قیمتوں کے لیے ایک تیزی کا اشارہ ہے، کیونکہ اس کے نتائج کے وقت اور نوعیت کے بارے میں بڑی غیر یقینی صورتحال موجود ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ اور ایران براہ راست اور بالواسطہ ملاقاتیں کر رہے ہیں اور ایران کے نئے رہنما بہت معقول رہے ہیں۔ان کا ساتھ ہی یہ بھی کہناتھاکہ خطے میں مزید امریکی فوجی پہنچ چکے ہیں۔ دوسری جانب، اسرائیلی فوج نےکہا ہےکہ وہ تہران بھر میں ایرانی حکومت کے بنیادی ڈھانچے پر حملے کر رہی ہے۔
برینٹ کی قیمتوں میں اس ماہ 59 فیصد اضافہ ہوا ہے، جو کہ اب تکسب سے بڑی ماہانہ شرح ہے، یہاں تک کہ یہ 1990 کی خلیجی جنگ کے دوران ہونے والے اضافے سے بھی تجاوز کر گئی ہے۔ یہ صورتحال ایران تنازع کے نتیجے میں آبنائے ہرمز کے عملی طور پر بند ہونے کے بعد پیدا ہوئی، جو دنیا کی تیل اور گیس کی سپلائی کا پانچواں حصہ فراہم کرنے والی اہم گزرگاہ ہے۔
جنگ پورے مشرق وسطیٰ میں پھیل چکی ہے، جس سے جزیرہ نما عرب اور بحیرہ احمر کے گرد جہاز رانی کے راستوں کے بارے میں تشویش بڑھ گئی ہے۔ اسرائیلی فوج نےبتایا کہ ایران نے اسرائیل پر میزائلوں کی کئی لہریں داغی ہیں اور جنگ شروع ہونے کے بعد دوسری بار یمن سے بھی حملہ کیا گیا۔
جے پی مورگن (JP Morgan) کے تجزیہ کاروں نے، جن کی قیادت نتاشا کانیوا کر رہی تھیں، ایک نوٹ میں کہا کہ تنازع اب صرف خلیج فارس اور آبنائے ہرمز تک محدود نہیں رہا، بلکہ اب بحیرہ احمر اور باب المندب تک پھیل گیا ہےجو خام تیل اور ریفائنڈ مصنوعات کی ترسیل کے لیے دنیا کے اہم ترین مقامات میں سے ایک ہے۔ تجزیاتی فر م کپلر کے مطابق، گزشتہ ہفتے سعودی عرب کی خام تیل کی برآمدات جو آبنائے ہرمز سے بحیرہ احمر کی یانبو بندرگاہ کی طرف موڑی گئی تھیں4اعشاریہ 658 ملین بیرل روزانہ تک پہنچ گئیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یانبو سے برآمدات میں خلل پڑتا ہے، تو سعودی تیل کو بحیرہ روم کی جانب مصر کی سوئز،میڈیٹیرینین (SUMED) پائپ لائن کا رخ کرنا پڑے گا۔
وال سٹریٹ جرنل کے مطابق ،اسپارٹا کموڈٹیز (Sparta Commodities) سے وابستہ جون گو (June Goh) کا کہنا ہے کہ حوثیوں کی جانب سے بحیرہ احمر اور باب المندب کے ذریعے تیل کی ترسیل میں خلل ڈالنے کی کوئی بھی کوشش تباہ کن ثابت ہوگی۔
مارکیٹ کی سینئر تجزیہ کار کا مزید کہنا ہے کہ ایسی صورت میں سعودی عرب کی جانب سے پیداوار کی مزید بندش کا قوی خدشہ ہو گا۔
جنگ بندی کے مذاکرات شروع کرنے کی کوششوں کے باوجود ہفتے کے آخر میں خطے میں حملوں میں شدت آئی اور عمان کے صلالہ ٹرمینل کو نقصان پہنچا۔ ایران نے کہا کہ وہ امریکی زمینی حملے کا جواب دینے کے لیے تیار ہے، اور اتوار کے روز واشنگٹن پر الزام لگایا کہ وہ ایک طرف مذاکرات کی کوشش کر رہا ہے تو دوسری طرف زمینی حملے کی تیاری کر رہا ہے۔
پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ انہوں نے خطے میں جنگ کے جلد اور مستقل خاتمے کے ممکنہ طریقوں کے ساتھ ساتھ اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کےدرمیان ممکنہ مذاکرات پر بھی تبادلہ خیال کیا ہے۔