ام رباب کیس کیا ہے اور بری ہونے والے پیپلز پارٹی اراکین اسمبلی کون ہیں؟

8سال پرانے تہرے قتل کے مقدمے میں کب کیا ہوا۔تفصیلی رپورٹ

               
March 30, 2026 · امت خاص

تصویر: سوشل میڈیا

 

دادو کی ایڈیشنل سیشن عدالت نے 8 سال پرانے ام رباب کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے تمام ملزمان کو بری کر دیا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ ایف آئی آر 16 گھنٹے کی تاخیر سے درج کی گئی جس کی معقول وضاحت پیش نہیں کی گئی۔ عینی شاہدین کے بیانات میں تضادات پائے گئے ، طبی شواہد بھی گواہی سے مطابقت نہیں رکھتے تھے۔ مزید برآں، واقعہ گنجان علاقے میں پیش آنے کے باوجود کسی آزاد گواہ کو پیش نہیں کیا گیا۔

 

عدالت کے مطابق استغاثہ ملزمان کے خلاف الزامات بلا شک و شبہ ثابت کرنے میں ناکام رہا، فریقین کے درمیان پرانی دشمنی اور سیاسی رقابت کے باعث جھوٹے مقدمے کے امکان کو بھی رد نہیں کیا جا سکتا۔ ان بنیادوں پر عدالت نے تمام ملزمان کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کرنے کا حکم دے دیا۔عدالت نےزیرحراست ملزمان فوری طور پر رہا کرنے کا حکم جاری کیا۔

 

مجموعی طور پر 392 پیشیاں ہوئیں۔ فرسٹ ایڈیشنل سیشن جج،ماڈل کرمنل ٹرائل کورٹ دادو نے ایک ماہ قبل فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

 

کیس کی سماعت فاضل جج حسن علی کلواڑ نے کی۔ یہ سیشن کیس نمبر 310 آف 2020 کے تحت ریاست بنام سکندر چانڈیو و دیگر کے عنوان سے زیر سماعت تھا۔

استغاثہ کے مطابق 17 جنوری 2018 کو صبح 9 بجے کے قریب تمن دارکونسل کے چیئرمین مختیارچانڈیو، ان کے والد کرم اللہ خان چانڈیو اور بھائی قابل حسین چانڈیو اپنے اوطاق کے سامنے موجود تھے کہ مسلح افراد نے فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں کرم اللہ خان اور مختیار احمد موقع پر جاں بحق اور قابل حسین بعد میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے انتقال کر گئے۔

مقدمے میںپیپلز پارٹی کے ایم پی اے سردار احمد خان چانڈیو،ان کے بھائی ایم پی اے برہان خان چانڈیو پر قتل کی سازش،اور دیگر ملزمان پر براہِ راست فائرنگ کا الزام تھا۔

مرتضیٰ چانڈیو، علی گوہر چانڈیو، سکندر چانڈیو، ذوالفقار چانڈیو، ستار چانڈیو اور سابق ایس ایچ او عبدالکریم چانڈیو بھی رہا ہونے والوں میں شامل ہیں۔

تہرے قتل کا وقوعہ دادو کے علاقے میہڑ میںہواتھا۔ مقدمہ جنوری 2018 میں درج کیا گیا تھا ۔

 

15 جون 2019 کو سپریم کورٹ آف پاکستان نے ام رباب کے خاندان کے قتل کیس میں سندھ پولیس کی کارکردگی پر سخت سوال اٹھاتے ہوئے ریمارکس دیئے تھے کہ باپ،بیٹا،پوتاسب قتل ہوگئے،تاحال ریلیف نہیں ملا،برہان چانڈیوکوتفتیش کے دوران ہی چھوڑدیاگیا۔ چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں بنچ نے ام رباب چانڈیوکے خاندان کے قتل سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران جسٹس اعجاز الاحسن نے سندھ پولیس کی کارکردگی پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھاکہ مراد خان چانڈیو کو پکڑ کرچھوڑ دیا گیا ،سندھ پولیس نے کہا کہ پولیس سمجھتی تھی مراد خان چانڈیوبے گناہ ہے،عدالتی حکم پر مراد چانڈیو کو دوبارہ پکڑ لیا۔

 

چیف جسٹس ثاقب نثار کا کہناتھا کہ اس کیس کے پیچھے وڈیرے لگتے ہیں،ابھی تک فیصلہ نہیں ہوادہشت گردی کی دفعات لگیں گی یانہیں؟۔

 

عدالت نے ام رباب کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کوپتہ ہے قتل کی وجہ کیاہے؟صرف آوازاٹھائی تھی کہ وڈیروں کو ایساسلوک نہیں کرناچاہئے ،چیف جسٹس نے کہا کہ صرف یہ کہاتھاکہ لڑکیوں سے ایساسلوک نہ کریں۔وکیل نے عدالت کو بتایاکہ ملزمان نے ضمانت قبل ازگرفتاری کرائی ہے۔

 

2020میں گھروںپر چھاپے کی اطلاع ملزمان کو مبینہ طورپرپہلے مل گئی تھی جس کے بعد وہ فرارہوگئے تھے۔اس معاملے میں ضلع قمبر اور دادو کے پانچ ایس ایچ اوز کو معطل کیاگیا ۔ان میں ضلع قمبر کے چار اور دادو کا ایک ایس ایچ او شامل تھا۔

 

متاثرہ خاتون ام رباب کئی سال تک ننگے پاوں عدالت میں خوار ہوتی رہی ۔کئی بار عدالت نے سماعتیں ملتوی کیں۔یہ بھی الزام لگایا جاتاہے کہ کئی بار وڈیروں کو خوش کرنے کے لیے کیس کو التوا میں ڈالاگیا۔کئی بار مدعی مقدمہ کو سنگین نتائیج کی دھمکیاں ملیں ، ایف آئی آرز درج ہوئیں ۔ام رباب کو سیکیورٹی بھی فراہم کی گئی ۔

 

مقتولین کے ورثا نے ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ جانے کا اعلان کیا ہے۔ مدعیہ ام رباب چانڈیو نے کہا کہ ان کے حوصلے بلند ہیں، دنیا حیران ہے کہ سندھ میں سردار وڈیروں کو قتل کرنے کا لائسنس دیا گیا ہے، کسی ایک ملزم کو سزا نہ ہونا عجیب ہے ، وہ ملزمان جو 3 سال تک روپوش رہے ان کو بھی سزا نہیں ہوئی۔ یہ فیصلہ میرے گھر تک محدود نہیں تھا بلکے یہ سندھ کے جاگیرداری نظام کے خلاف مظلوم عوام کی جدوجہد پر مشتمل تھا، دو دو اضلاع میں کرفیو لگا کر فیصلہ دیا گیا۔

 

میڈیارپورٹس کے مطابق ،فیصلہ سنانے سے قبل سخت سیکیورٹی انتظامات کیے گئے۔ ضلع بھر کے 30 تھانوں کے ایس ایچ اوز، 6 ڈی ایس پیز اور 589 پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ۔ عدالت کے اطراف دو کلومیٹر تک ناکہ بندی کر کے سڑکیں سیل کی گئیں۔

 

ام رباب نے مزید کہا کہ میرے حوصلے بلند ہیں، میں عدالتی فیصلے کو ہائیکورٹ میں چیلنج کروں گی۔ان کے وکیل صلاح الدین پنہور نے اعلان کیا کہ ماڈل کورٹ کے فیصلے کے خلاف سندھ ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی جائے گی۔

 

جماعت اسلامی پاکستان کے امیر حافظ نعیم الرحمان کا فیصلے پر اپنے ردعمل میں کہناہے کہ وڈیرہ شاہی جیت گئی، انصاف ہار گیا، کورٹ نے ام رباب چانڈیو کے والد، دادا اور چچا کے قتل کیس میں نامزد تمام ملزمان کو بری کر دیا۔فیصلے نے پھر ثابت کردیا نظام انصاف طاقت ور جاگیر داروں کے گھر کی لونڈی ہے۔ حافظ نعیم نے سوشل میڈیاپر لکھا:قوم کی بیٹی ام رباب چانڈیو کی تاریخی جدوجہد کو سلام۔ پیپلزپارٹی جو قوم پرستی کی سیاست کرتی ہے اس کے وڈیرہ چیئرمین سے سوال ہے کہ کیا ام رباب چانڈیو سندھ کی بیٹی نہیں ، طاقتور اور جاگیردار ہی آپ کے چہیتے ہیں؟ سیاسی جماعتوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کو ام رباب کے ساتھ کھڑا ہونا چاہئے۔