طورخم بارڈر کھولنے کے لیے پاک افغان سرحدی حکام کی اہم فلیگ میٹنگ
پیدل آمدورفت اور ٹرکوں کی واپسی کے لیے نئے ضوابط تیار،اسلحہ کی نمائش اور غیر ضروری نقل و حرکت پر پابندی، خلاف ورزی پر بارڈر دوبارہ بند کر دیا جائے گا ، پاکستانی حکام
فائل فوٹو
خیبر: طورخم زیرو لائن پر پاکستان اور افغانستان کے سرحدی حکام کے درمیان اہم فلیگ میٹنگ منعقد ہوئی، جو دوپہر ڈیڑھ بجے سے سہ پہر تین بجے تک جاری رہی اجلاس کا مقصد طورخم بارڈر کو واپسی (ریپٹری ایشن) آمدورفت کے لیے کھولنے سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کرنا تھا۔
اجلاس کے دوران پاکستانی حکام نے افغان فریق پر زور دیا کہ شنکنڈو سے داؤد پوسٹ تک پورے علاقے کی مکمل ذمہ داری سنبھالی جائے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ سرحدی علاقے میں کسی بھی قسم کی کشیدگی دوبارہ پیدا نہ، ہو اس کے ساتھ یہ بھی واضح کیا گیا کہ دونوں ممالک کے درمیان حالات مکمل طور پر معمول پر آنے تک کسی بھی نئی تعمیر یا تنصیب سے گریز کیا جائے۔
پاکستانی حکام نے جنگ بندی کو ہر صورت برقرار رکھنے پر زور دیتے ہوئے خبردار کیا کہ کسی بھی خلاف ورزی کی صورت میں طورخم بارڈر دوبارہ بند کیا جا سکتا ہے۔ مزید برآں زیرو لائن کے قریب دونوں اطراف اسلحہ کی نمائش، نقل و حرکت اور غیر ضروری موجودگی پر مکمل پابندی عائد کرنے پر بھی زور دیا گیا۔
آئی ایف آر (واپسی آمدورفت) کے حوالے سے اجلاس میں متعدد تجاویز زیر غور آئیں مسافر ٹرمینل کو پہنچنے والے نقصان کے باعث عارضی طور پر پیدل آمدورفت زیرو لائن کے ذریعے ممکن بنانے کی تجویز دی گئی جبکہ بارڈر کے اوقات کار صبح آٹھ بجے سے رات آٹھ بجے تک مقرر کرنے پر بھی غور کیا گیامزید یہ طے پایا کہ واپسی کے لیے آنے والے ٹرکوں کی دونوں اطراف سو فیصد جانچ پڑتال کی جائے گی۔ اس کے ساتھ یہ شرط بھی رکھی گئی کہ جو ڈرائیور ٹرک لے کر آئے گا وہی اسے واپس لے کر جائے گاجبکہ خالی گاڑیوں میں کسی بھی فرد کو سرحد پار کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔
افغان وفد کے سربراہ مولوی تاج محمد نے اجلاس کے دوران مؤقف اختیار کیا کہ شمشاد سر سے آگے کا علاقہ ان کے براہ راست دائرہ اختیار میں نہیں بلکہ وہاں دیگر افغان سیکیورٹی ادارے تعینات ہیں تاہم انہوں نے شمشاد سر سے خیبر پوسٹ تک جنگ بندی کی ذمہ داری لینے پر آمادگی ظاہر کی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اجلاس میں زیر بحث آنے والے تمام نکات اعلیٰ افغان حکام کے سامنے رکھے جائیں گےاور اس سلسلے میں مشاورت کے لیے 31 مارچ کو صبح ساڑھے دس بجے تک مہلت درکار ہوگی انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ افغان حکام کی رائے سے جلد آگاہ کیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق اگر دونوں جانب نکات پر اتفاق رائے قائم ہو گیا تو آئندہ اجلاس میں طورخم بارڈر کو واپسی آمدورفت کے لیے کھولنے کی حتمی تاریخ اور اوقات کار کا باضابطہ اعلان کیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق پاکستانی وفد کی قیادت لیفٹیننٹ کرنل وقاص (ایف سی 146 ونگ) نے کی جبکہ افغان جانب سے طورخم کے کمشنر مولوی تاج محمد شریک ہوگئے