اسلام آباد ڈپلومیسی’نیو ریجنل آرڈر’کی شروعات.چار فریقی بلاک وجود میں آ گیا
وزرائے خارجہ کا اجلاس ایک طرح سے اس اقدام کی باقاعدہ افتتاحی تقریب تھی
ا
سلام آباد میں مصر، پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے وزرائے خارجہ کے اجلاس نے نہ صرف خطے میں جنگ بندی کی بہترین امید کی نمائندگی کی، بلکہ جنگ کے بعد اسرائیلی اور ایرانی غلبے کو روکنے کے لیے ایک نئے علاقائی نظام کی بنیاد بھی رکھی۔
برطانوی اخبار گارڈین کے مطابق، مشرق وسطیٰ میں چار فریقی بلاک وجود میں آیا ہے۔اگرچہ یہ چاروں ممالک پہلے بھی بطور ‘کواڈرٹ’ (چار رکنی گروپ) مل چکے ہیں، لیکن اتوار کو اسلام آباد میں وزرائے خارجہ کا ایک روزہ اجلاس، ایک طرح سے اس اقدام کی باقاعدہ افتتاحی تقریب تھی جس نے سفارت کاروں کی توجہ حاصل کر لی ہے۔
تنازعات کی بڑھتی ہوئے پیچیدگی میں اس گروپ کا پہلا مقصد فریقین کو کشیدگی روکنے اور جنگ بندی پر راضی کرنا ہے۔ انٹرنیشنل کرائسز گروپ کی خلیجی ماہر یاسمین فاروق کے مطابق، یہ گروپ اب کثرت سے ملاقاتیں کرے گا۔
یاسمین فاروق نے کہاکہ یہ گروپ اس لیے بہت زیادہ فعال ہونا شروع ہوا کیونکہ جنگ اب واقعی ایک خطرناک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔یہ اب تک جنگ نہ رکنے کے خواہش مند خلیجی ملکوں کے لیے ڈراؤنا خواب ہے ،اور انہیں یہ احساس دلانے پر مجبور کر سکتا ہے کہ صورتحال ہاتھ سے نکل رہی ہے۔ کیونکہ اگر آپ پانی صاف کرنے کے پلانٹس اور بجلی گھروں کو نشانہ بناتے ہیں، یا خلیج کے پانیوں میں تابکاری کا اخراج ہوتا ہے، تو ان ریاستوں کے اندر ملک گیر بحران بن جائے گا۔
گارڈین کا کہنا ہے کہ اتوار کو اسلام آباد اجلاس میں طے پایا کہ یہ گروپ ایران کے ساتھ بنیادی مذاکرات کار کے طور پر کام کرے گا، تاکہ تہران اور امریکہ کے درمیان بالواسطہ مذاکراتی ذرائع کھلے رہیں۔ ایران کا اصرار ہے کہ یہی واحد قابل اعتماد ذریعہ ہے اور ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کے ساتھ براہ راست بات چیت کی باتیں محض ایک افسانہ ہیں جس کا مقصد تیل کی قیمتوں کو کم کرنا ہے۔
اتوار کواجلاس کے فوراً بعد پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار بیجنگ کو اعتماد میں لینے کے لیے چین روانہ ہوئے۔
ایران سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ چین کو کسی بھی معاہدے کے ضامن کے طور پر کردار ادا کرنا چاہیے، جسے امریکہ ناپسند کرے گا۔
الجزیرہ نے بھی اسلام آباد ڈپلومیسی کو اسی پیرائے میں بیان کیا ہے۔ماہرِ امورِ مشرقِ وسطیٰ، محجوب زویری کے مطابق، اسلام آباد مذاکرات کا مقصد ٹرمپ کے حال ہی میں قائم کردہ ‘بورڈ آف پیس’ کو دوبارہ فعال کرنا ہے، جو غزہ کے لیے اپنی حالیہ تجاویز کے بعد سفارتی طور پر “کومہ” کی کیفیت میں چلا گیا تھا۔
زویری نے کہا کہ وہ صدر کے احساسات کو اپیل کر رہے ہیں۔ پیغام یہ ہے کہ آپ نے یہ بورڈ بنایا اور آپ کہتے ہیں کہ ہم امن قائم کرنا چاہتے ہیں تو جائیں اور اس جنگ میں امن قائم کر کے دکھائیں۔