سلیپرایجنٹس یاکچھ اور؟ایران جنگ کے دوران براڈ کاسٹ ہونے والا پراسرار پیغام کس کیلئے تھا؟

شارٹ ویو سے نامعلوم براڈ کاسٹ نمبر نشر کرتاہے۔جرمنی میں امریکی فوجی اڈے تک ٹریس ہوا

               
March 31, 2026 · امت خاص

 

ایران کی جنگ کے دوران ایک پراسرارپیغام نشرہو رہا ہے۔جیسے ہی امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملے شروع کیے،ایک شارٹ ویو براڈکاسٹ سنا جانے لگا۔ اسے جرمنی میں ایک امریکی فوجی اڈے تک ٹریس کیا گیا لیکن اس کا مقصد اور آپریٹر اب تک واضح نہیں۔معلوم نہیں ہوسکا کہ ٹرانسمیشنز کون چلا رہا ہے یا یہ کس کے لیے ہیں۔

 

“توجہ! توجہ! توجہ!” ایک مرد کی آواز اعلان کرتی ہے، پھر بغیر کسی ترتیب کے نمبرپڑھنا شروع کر دیتی ہے، آہستہ اور لے میں۔ تقریباً دو گھنٹے بعد “توجہ!” کے فارسی کالز رک جاتے ہیں اورچند گھنٹے بعدپھر شروع ہوتے ہیں۔

 

براڈکاسٹ 28 فروری کو امریکہ،اسرائیل کے ایران پر حملے کے آغاز سے ہی دن میں دو بار ایک شارٹ ویو فریکوئنسی پر چل رہا ہے۔تیکنیکی جائزے کے مطابق،، اس براڈکاسٹ کو ایران پر بمباری شروع ہونے کے وقت پہلی بار سنا گیا۔ اس کے بعد یہ شارٹ ویو فریکوئنسی پر مسلسل چل رہا ہے۔بالآخر،اس کے سگنل جرمنی کے ایک امریکی فوجی اڈے میں ٹریس ہوئے۔مذکورہ جگہ ایک محدود تربیتی علاقے میں واقع ہے، جس کے تکنیکی آپریشنز ممکنہ طور پر قریبی یوایس آرمی کے سگنل بٹالین ہیڈکوارٹرزسے منسلک ہیں۔لیکن یہ شناخت بھی ظاہر نہیں کرتی کہ ٹرانسمیشنز کون چلا رہا ہے یا یہ کس کے لیے ہیں۔

 

دو گھنٹے کی یہ ٹرانسمیشن پانچ سے چھ حصوں میں تقسیم ہے، جن میں سے ہر ایک 20 منٹ تک چلتی ہے۔ ہر حصہ “توجہ!” سے شروع ہوتا ہے پھر فارسی میں نمبروں کے ایک سلسلے میں تبدیل ہو جاتا ہے، کبھی کبھار ایک یا دو انگریزی الفاظ بھی سنائی دیتے ہیں۔ براڈکاسٹ کے پانچ دن بعد، ریڈیو جامرز سےسگنل کو بلاک کرنے کی کوشش ہوئی۔ اگلے دن، ٹرانسمیشن دوسری فریکوئنسی پر شفٹ ہو گئی۔

 

ریڈیائی مواصلات کے ماہرین کا خیال ہے کہ یہ براڈکاسٹ ممکنہ طور پر ایک کولڈ وار دور کے نظام کا حصہ ہے جسے نمبرز اسٹیشنز کہا جاتا ہے۔

 

لیٹوین مورخ اور نمبرز اسٹیشنز کے محقق Maris Goldmanis کے مطابق ،نمبرز اسٹیشنز شارٹ ویو ریڈیو براڈکاسٹس ہیں ۔یہ نمبروں یا کوڈز کا ایک سلسلہ چلاتے ہیں جو بے ترتیب لگتے ہیںجیسا کہ اب ایران میں سنا جا رہا ہے۔ “یہ ایک محفوظ ریڈیو پیغام ہے جو غیر ملکی انٹیلی جنس سروسز استعمال کرتی ہیں، اکثر انٹیلی جنس ایجنسیوں اور فوجیوں کے ایک پیچیدہ آپریشن کا حصہ،” کہتے ہیں۔

 

سابق امریکی انٹیلی جنس آفیسرجان سائفر( John Sipher )کا کہناہے کہ نمبرز اسٹیشنز سب سے زیادہ جاسوسی میں استعمال ہوتے ہیں۔ ان کے ذریعے انٹیلی جنس ایجنسیوں کے لیے اپنے جاسوسوں کے ساتھ رابطہ قائم اور معلومات اکٹھا کی جاتی ہیں۔

 

گولڈمینس کے مطابق،اگرچہ نمبرز اسٹیشنز کا استعمال پہلی عالمی جنگ تک جا تا ہے، لیکن یہ امریکہ،سوویت سردجنگ کے دوران مشہور ہوئے۔ جیسے جیسے جاسوسی زیادہ جدید ہوئی، حکومتوں نے ایجنٹوں کے ساتھ رابطے کے لیے کوڈڈ نمبروں کی خودکار آواز ٹرانسمیشنز استعمال کیں،کہتے ہیں۔کے جی بی اور سی آئی اے کے ڈی کلاسیفائیڈ دستاویزات کا حوالہ دیتے ہوئے، وہ کہتے ہیں کہ اس دور میں نمبرز اسٹیشنز بڑے پیمانے پر استعمال ہوتے تھے۔

 

نمبروں کی بظاہر بے ترتیب نوعیت کو ایک کوڈ بک کے ساتھ سمجھا جا سکتا ہے۔اس کے علاوہ کوئی بھی یہ نہیں سمجھ سکتا کہ پیغام کیا کہتا ہے۔

 

ایران جنگ کے ساتھ نشر یات شروع کرنے والے پراسراربراڈکاسٹس اتنے محفوظ اوراس قدر خفیہ طور پر ڈیزائن کیے گئے ہیں کہ سگنل کا مقصد اب تک نامعلوم ہے۔ ٹرانسمیشن کی منظم نوعیت ،اس کا مقررہ شیڈول اور فریکوئنسیز کا مستقل استعمال بتاتا ہے کہ یہ ایک منصوبہ بند آپریشن کا حصہ ہے۔

 

ایک تھیوری یہ ہے کہ براڈکاسٹس خود ایرانی جنگی انٹیلی جنس کی کوششوں کا حصہ ہیں۔اس کے علاوہ براڈکاسٹ کے پیچھے ایرانی رجیم کا کوئی مخالف بھی ہو سکتا ہے۔یہ زیادہ وسیع اور مضبوط امکان ہے کہ شاید امریکہ، اسرائیل، یا یورپ میں مقیم ایرانی مخالف گروپ شارٹ ویو ٹرانسمیٹرز استعمال کر کے اندر موجود اتحادیوں تک پہنچ رہے ہیں۔یہ بھی ممکن ہے کہ یہ براڈکاسٹس ایرانی سیکیورٹی کو الجھانےکے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں۔

 

پہلے براڈکاسٹ کے صرف چند دن بعد، سگنل کو جام کرنے کی کوششیں شروع ہو گئی تھیں۔ 4 مارچ سے، “ببل جامر” تکنیک سے مطابقت رکھنے والی مداخلت کا مشاہدہ کیا گیا جو پہلے ایرانی رجیم سے منسلک تھی۔ایران نے ان ببل جیسی آوازوں کا استعمال امریکی اور اسرائیلی ریڈیو سگنلزکو جام کرنے کے لیے ماضی میں کیا ہے،گویا ایرانی سیکیورٹی ان براڈکاسٹس کو روکنا چاہتی ہے۔

 

ایک بڑے جیو پولیٹیکل واقعے کے موقع پر ایک نئے اسٹیشن کا ظہور ایک غیر معمولی واقعہ سمجھا جانا چاہیے، کیونکہ خفیہ کمیونیکیشن کے دوسرے بہت سے طریقے موجود ہیں۔

 

امریکہ،اسرائیل حملوں کے آغاز سے، ایرانی حکومت نے انٹرنیٹ رسائی پر سختی کر دی تھی، ملک بھر میں بلیک آؤٹس 500 گھنٹوں تک جاری رہے۔ ایران میں انٹرنیٹ مکمل بند ہونے پر محفوظ ایپلیکیشنز جیسے ٹیلی گرام روس میں مکمل طور پر بلاک ہو جاتی ہیں، یا سٹارلنک تک رسائی بھی ختم ہوجاتی ہے۔ایسی صورتوں میں، پرانے طریقے جیسے شارٹ ویو ریڈیو خفیہ رابطوںکے لیے ایک قابل اعتماد ذریعہ ہو سکتے ہیں۔ شارٹ ویوز طویل فاصلوں تک پہنچ سکتے ہیں، اور آپ کو صرف ایک تکنیکی طور پر درست شورٹ ویو ریڈیو اور مداخلت سے آزاد جگہ کی ضرورت ہے۔

 

اگرچہ جنگ کے دوران ریڈیو جدید ٹیکنالوجیز کی جگہ نہیں لے سکتا،لیکن منفرد حالات اینالاگ ٹولز کی طرف واپسی پر مجبور کر سکتے ہیں۔ ایسے نظام ٹریس کرنا مشکل ہوتے ہیں۔ یہ اس لیے مفید ہے کیونکہ ایرانی حکومت کے لیے یہ جاننا ممکن نہیں کہ کون سگنلز وصول کر رہا ہے۔ یہ اسٹار لنک ڈیوائس سے مختلف ہے جو انٹرنیٹ وصول کرتی ہے اور اسے لوکیشن کیا جا سکتا ہے؛ یہ جاننے کا کوئی طریقہ نہیں کہ نمبرز سننے والا کون ہے۔

 

اسٹیشن جنگ کے آغاز میں ظاہر ہو ااور اہم سوالات اب بھی باقی ہیں، اس کا وقت، ساخت، اور مشکوک اصلیت ایک انٹیلی جنس آپریشن کی طرف اشارہ کرتی ہے جو حقیقی وقت میں ہو رہا ہے۔

 

شواہد بتاتے ہیں کہ اس آپریشن کے پیچھے کوئی انڈرکور ایجنٹ سرگرم ہے۔کوئی سلیپر سیل متحرک ہے۔سلیپر سیل کی سب سے مشہور مثال امریکی ایف بی آئی کے انڈر کورایجنٹ جیگ گارسیا کی ہے ۔ اس نے امریکہ کی تاریخ میں سب سے کامیاب آپریشن کیا تھا۔

 

اس نے’’جیک فالکون‘‘ کا روپ دھارا۔اور ایک گینگسٹر بن کر نیویارک کے بدنام زمانہ گیمبینو کرائم نیٹ ورک میں داخل ہوا۔ اس نے مافیا کے ارکان کو یقین دلایا کہ وہ ایک بڑا چور اور ڈیلر ہے۔ وہ انہیں مہنگے تحائف دیتا اور بہترین ہوٹلوں میں کھانے کھلاتا تھا تاکہ ان کا اعتماد جیت سکے۔

 

جیک اتنا کامیاب رہا کہ مافیا کے سرغنہ اسے ایک باقاعدہ گینگ کا مستقل رکن بنانا چاہتے تھے۔ یہ کسی بھی انڈر کور ایجنٹ کے لیے ایک غیر معمولی کامیابی تھی۔ اسے ہر وقت پکڑے جانے کا ڈر تھا، لیکن وہ اپنی اداکاری اور ذہانت سے بچتا رہا۔

 

اس مشن کے نتیجے میں مافیا کے درجنوں اہم کارندوں کو گرفتار کیا گیا تھااور گیمبینوسرکل کو شدید نقصان پہنچا۔ اس نے مافیا کے اندر رہ کر ان کے نظام کو جڑ سے ہلا دیا تھا۔
کیا کسی کیمپ میں کوئی سلیپر سیل موجودہے؟لیکن کہاں ،یہ تاحال ایک رازہے۔