پاکستان اپنے پرچم تلے دوسرے ملکوں کے جہاز آبنائے ہرمز سے گزارے گا،بلومبرگ کا دعویٰ
یہ پیش رفت ایران کی جانب سے پاکستانی پرچم بردار 20 مزید جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت ملنے کے بعد سامنے آئی ہے۔
فائل فوٹو
اسلام آباد / تہران : عالمی خبر رساں ادارے ‘بلوم برگ’ نے انکشاف کیا ہے کہپاکستان اپنی اہم تجارتی ضروریات پوری کرنے کے لیے دوسرے ممالک کے بحری جہازوں کو اپنا پرچم (Flag) استعمال کرنے کی اجازت دینے پر غور کر رہا ہے۔ یہ پیش رفت ایران کی جانب سے پاکستانی پرچم بردار 20 مزید جہازوں کو آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) سے گزرنے کی اجازت ملنے کے بعد سامنے آئی ہے۔
بلوم برگ کی رپورٹ کے مطابق، پاکستان کے پاس اس وقت خلیج فارس میں اتنی بڑی تعداد میں اپنے جہاز موجود نہیں ہیں کہ وہ 20 جہازوں کے کوٹے سے فائدہ اٹھا سکے۔ اس لیے حکومت ان آپشنز کا جائزہ لے رہی ہے جن کے تحت خام تیل، کھاد اور دیگر ضروری سامان لانے والے بین الاقوامی ٹینکرز کو عارضی طور پر پاکستانی پرچم تلے رجسٹرڈ (Re-flagging) کیا جائے تاکہ وہ ایرانی حدود سے بحفاظت گزر سکیں۔
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے مطابق، ایرانی حکومت کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کے تحت روزانہ دو پاکستانی جہاز اس اہم بحری گزرگاہ کو عبور کر سکیں گے۔
اس سے قبل ایران نے ‘ملتان’ اور ‘پی اکیلی’ (P-Akili) نامی دو پاکستانی جہازوں کو بھی کلیئرنس دے دی ہے جو کراچی کی جانب رواں دواں ہیں۔ ‘پی اکیلی’ نامی جہاز 8 کروڑ لیٹر خام تیل لے کر آ رہا ہے، جس سے ملک میں ایندھن کی فراہمی میں بہتری کی امید ہے۔