غیر قانونی افغان باشندوں کی واپسی کیلیے طورخم بارڈر کھول دیا گیا

آج مجموعی طور پر 268 افغان مہاجرین کو طورخم بارڈر پر ڈی پورٹ کر دیا گیا۔

               
March 31, 2026 · اہم خبریں, قومی
فوٹو امت

فوٹو امت

خیبر : غیر قانونی افغان باشندوں کے لیے طورخم بارڈر کھول دیا گیا، سینکڑوں مہاجرین وطن واپس روانہ ہو گئے۔اسلام آباد،راولپنڈی،اٹک سے حکومت پاکستان کی جانب سے غیر قانونی مقیم افغان باشندوں کے خلاف جاری کارروائیوں کے دوران آج مجموعی طور پر 268 افغان مہاجرین کو غیر قانونی رہائش پذیر تھے ان کو طورخم بارڈر پر ڈی پورٹ کر دیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق ضلع اٹک سے 32 افراد کو ڈی پورٹ کیا گیا، جن میں 15 مرد، 6 خواتین اور 11 بچے شامل ہیں۔ اسی طرح ضلع راولپنڈی سے 79 افراد کو ڈی پورٹ کیا گیا، جن میں 48 مرد، 14 خواتین اور 17 بچے شامل ہیں۔
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں کارروائی کے دوران 157 افراد کو ڈی پورٹ کیا گیا، جن میں 72 مرد، 52 خواتین اور 33 بچے شامل ہیں

مجموعی طور پر ڈی پورٹ کیے گئے افراد میں 135 مرد، 72 خواتین اور 61 بچے شامل ہیں، جبکہ حکام کے مطابق کسی بھی فرد کے پاس POR یا ACC کارڈ موجود نہیں تھا۔

ذرائع کے مطابق حکومتِ پاکستان نے طورخم بارڈر کے قریب حمزہ بابا مزار کے ساتھ قائم ہولڈنگ کیمپ میں افغان مہاجرین کی باقاعدہ رجسٹریشن کی، جس کے بعد انہیں خصوصی ٹرانسپورٹ کے ذریعے طورخم بارڈر تک پہنچایا گیا اور خوش اسلوبی کے ساتھ ڈی پورٹ کیا گیا۔

ادھر افغان مہاجرین نے حکومتِ پاکستان کا شکریہ ادا کیا کہ ان کے لیے بارڈر کھول دیا گیا تاہم انہوں نے مطالبہ کیا کہ راستوں میں اب بھی سینکڑوں مہاجرین اپنے خاندانوں سمیت پھنسے ہوئے ہیں جن میں خواتین، بچے، بزرگ، بیمار افراد اور حاملہ خواتین شامل ہیں، انہیں فوری طور پر اجازت دی جائے تاکہ وہ اس مشکل صورتحال سے نکل سکیں۔

مہاجرین کے مطابق گزشتہ چند دنوں کے دوران دو خواتین کے ہاں بچیوں کی پیدائش بھی ہوئی ہے، جس کے باعث مشکلات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومتِ پاکستان جلد باقی مہاجرین کے لیے بھی بارڈر کھول دے گی تاکہ سب افراد بحفاظت اپنے وطن واپس جا سکیں۔