آبنائے ہرمز پر ایران کیوں حق جتاتاہے؟عالمی قانون کے پیچھے اصل کہانی

1958 سے 1976 تک آئس لینڈ نے اپنے پانیوں میں برطانوی ماہی گیروں کو مچھلی پکڑنے سے روکا

               
April 1, 2026 · امت خاص

کاڈ وارز

 

آبنائے ہرمز پر ایران کا حق خود امریکہ نے تسلیم کیا تھا۔یہ 1950 کی دہائی تھی اور انگریزوں کو ایک مسئلہ درپیش تھا۔ ان کے پاس کاڈ (cod) مچھلی ختم ہو رہی تھی، جو برطانیہ کے قومی کھانے فش اینڈ چپس کا اہم حصہ ہے۔چنانچہ برطانوی ماہی گیروں کی کشتیاں شمال کی طرف گئیں اور آئس لینڈ کے قریب بڑی تعداد میں مچھلیاں ملیں۔آئس لینڈ نے اعتراض اوردعویٰ کیاکہ یہ ہماری مچھلی ہے! برطانیہ نے دلیل دی یہ بین الاقوامی پانی ہے!جواب میں، آئس لینڈ نے اپنے ماہی گیری کے حقوق چار سمندری میل تک بڑھا دیے۔ برطانیہ نے اسے نظر انداز کیا اور مچھلیاں پکڑنا جاری رکھا۔ننھے سے ملک آئس لینڈ نے اپنا کوسٹ گارڈ بھیج دیا۔

دونوں کے درمیان کاڈ(Cod) مچھلی پر جنگ ہو گئی۔

1958 سے 1976 تک ایسا تین بار ہوا، جنہیں Cod Wars کہا جاتا ہے۔ اس جنگ میں کوئی گولی نہیں چلی، لیکن کشتیاں ٹکرائیں، کچھ زخمی ہوئے اور ایک برطانوی کشتی ڈوبنے کے قریب پہنچی۔ آخر کار برطانیہ کو آئس لینڈ کی نئی سمندری حدود ماننی پڑیں۔

برطانیہ ہار مان گیا اور انہیں چار میل کا حق دے دیا۔ لیکن پھر آئس لینڈ نے حد کو 12 میل تک بڑھا دیا۔پھر 50 میل۔ برطانیہ نے اسے ماننے سے انکار کر دیا۔چنانچہ آئس لینڈ کے کوسٹ گارڈ نے بھاری کٹر استعمال کیے تاکہ ماہی گیروں کے جال کاٹ سکیں اور پکڑی گئی مچھلیاں واپس پانی میں پھینک دیں۔ آخر کار برطانوی مشتعل ہو گئے اور انہوں نے اپنی بحریہ بھیج دی۔

جنگی جہازوں نے آئس لینڈ کے جہازوں کو ٹکریں مارنا شروع کر دیں، لیکن آئس لینڈ کے پاس آخری پتہ باقی تھا۔یہ سرد جنگ کا دور تھا اور آئس لینڈ سوویت یونین کی آبدوزوں پر نظر رکھنے کے لیے ایک اہم تزویراتی مقام تھا۔انہوں نے 200 سمندری میل کی حد کا اعلان کیا اور امریکہ کو وارننگ (الٹی میٹم) دے دی۔مطالبہ کیا گیا کہ برطانیہ کو ہماری 200 میل کی حد تسلیم کرنے پر مجبور کرو ورنہ ہم امریکی فوجی اڈہ بند کر دیں گے اور نیٹو سے الگ ہو جائیں گے۔ امریکہ گھبرا گیا اور برطانیہ کو معاہدے پر مجبور کر دیا۔

آئس لینڈ سرد جنگ جیت گیا اور ان کی 200 میل کی حد دنیا کا معیاری سمندری قانون بن گئی۔

بعدمیں یہی ضابطہ ، اقوام متحدہ کے عالمی قانون کا حصہ بنا۔ بین الاقوامی سمندری قانون کا آرٹیکل 57 اسی بارے میں ہے۔