500ادویات کی قیمتوں میں اضافے کا تعین کرنے کے لیے سروے مکمل
نگران حکومت نے ڈی ریگولیٹ کی تھیں۔ رپورپ 2 ہفتوں میں جمع ہوگی
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قومی صحت کو بتایا گیا ہے کہ نگران حکومت کے دوران جن غیر ضروری ادویات کی قیمتوں کو ڈی ریگولیٹ کیا گیا تھا، ان میں سے تقریباً نصف یعنی 500 برانڈز کا جامع سروے کیا گیا ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ قیمتوں میں کتنا اضافہ ہوا ۔ سروے کی رپورٹ دو ہفتوں کے اندر جمع کرا دی جائے گی۔
یہ پیش رفت سینیٹر امیر ولی الدین چشتی کی زیرِ صدارت کمیٹی کے اجلاس میں سامنے آئی، جہاں ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) نے قانون سازوں کو قیمتیں مقررکرانے کے طریقہ کار اور غیر ضروری ادویات کی ڈی ریگولیشن کے اثرات پر بریفنگ دی۔
حکام نے بتایا کہ ریگولیٹر نے پہلے 100 برانڈز کا محدود سروے کیا تھا، لیکن بعد میں ڈیٹا کو مزید مستند اورجامع بنانے کے لیے اس کا دائرہ 500 برانڈز تک بڑھا دیا گیا۔ سی ای او ڈریپ نے بتایاکہ یہ عمل اب مکمل ہو چکاہے اور حتمی رپورٹ، جو ڈی ریگولیشن کے بعد ادویات کی قیمتوں میں فیصد اضافے کا تعین کرے گی، دو ہفتوں میں تیار ہو جائے گی۔
یہ سروے ان غیر ضروری ادویات پر مرکوز ہے جن کی قیمتیں نگران سیٹ اپ کے دوران ڈی ریگولیٹ کی گئی تھیں، جس سے فارماسیوٹیکل کمپنیوں کو مارکیٹ کے رحجانات کی بنیاد پر قیمتیں مقرر کرنے کی اجازت ملی تھی۔ کمیٹی نے اس بات پر وضاحت مانگی تھی کہ آیا اس پالیسی سے قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا اور مریضوں کی ادویات تک رسائی پر کیا اثر پڑا۔
قانون سازوں نے شواہد پر مبنی پالیسی فیصلوں کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ادویات کی بڑھتی ہوئی قیمتیں عوام، خاص طور پر طویل مدتی علاج کے مریضوں کے لیے ایک بڑا مسئلہ ہیں۔
کمیٹی نے سروے رپورٹ جلد جمع کرانے کا مطالبہ کرتے ہوئے سستی ادویات، رسائی اور معیار کے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے قیمتوں کے تعین میں پالیسی اصلاحات کی ضرورت پرزوردیا۔