خیبرپختونخوا کابینہ میں توسیع کا معاملہ کھٹائی میں پڑ گیا ،اختلافات کا لاوا پھٹ پڑا

مزمل اسلم کی بطور وزیر خزانہ تعیناتی پر آئینی جنگ چھڑ گئی،تیمور جھگڑا اور کامران بنگش کی شمولیت پر پارٹی تحفظات، توسیع کا عمل تعطل کا شکار

               
April 1, 2026 · اہم خبریں, قومی
فائل فوٹو

فائل فوٹو

پشاور: خیبرپختونخوا کابینہ میں توسیع کا معاملہ ایک بار پھر تذبذب کا شکار ہو گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے اندرونی اختلافات اور غیر منتخب افراد کو کابینہ کا حصہ بنانے پر سخت تحفظات کے باعث یہ عمل مؤخر کر دیا گیا ہے۔

خاص طور پر تیمور جھگڑا اور کامران بنگش کی شمولیت اور مزمل اسلم کی بطور وزیر خزانہ تقرری نے نئے سیاسی و آئینی تنازعات کو جنم دے دیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ تیمور جھگڑا اور کامران بنگش کو کابینہ میں شامل کرنے پر پارٹی کے اندر اختلافات سامنے آئے ہیں، جبکہ غیر منتخب افراد کو کابینہ کا حصہ نہ بنانے کی ہدایات بھی دی گئی ہیں۔

تحریک انصاف خیبرپختونخوا میں نان الیکٹیڈ افراد کی شمولیت کا معاملہ انتہائی حساس شکل اختیار کر چکا ہے۔

دوسری جانب صوبائی اسمبلی میں مزمل اسلم کی بطور وزیر خزانہ تعیناتی پر بھی شدید تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔

اپوزیشن نے اس تقرری کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ مزمل اسلم نے تاحال حلف نہیں اٹھایا، جبکہ چیف سیکریٹری کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن آئین کے آرٹیکل 130 کی خلاف ورزی ہے۔

اندرونی اختلافات اور آئینی اعتراضات کے باعث خیبرپختونخوا کابینہ کی توسیع کا معاملہ مزید تاخیر کا شکار ہو سکتا ہے۔