چاند کی طرف روانہ ہونیوالا نیا خلائی مشن کیا ہے، کتنے خلاباز شامل

آرٹیکل 2 سے جانے والے ماہرین اگلے دو برس میں چاند پر آبادی کیلئے جائزہ لیں گے، پہلی بار خلابازوں کے انتخاب میں نسلی امتیاز نہیں رکھا گیا

               
April 2, 2026 · امت خاص

انسانی تاریخ میں ایک بار پھر وہ لمحہ آن پہنچا ہے جب انسان زمین کی حدود کو عبور کر کے چاند کی گہرائیوں میں قدم رکھنے کے لیے روانہ ہو گیا ہے۔ امریکی خلائی ادارے ناسا (NASA) نے اپنے طاقتور ترین راکٹ اسپیس لانچ سسٹم (SLS) کے ذریعے آرٹیمس 2 (Artemis II) مشن کو کامیابی سے خلا میں روانہ کر دیا ہے۔ یہ 50 سال سے زائد عرصے کے بعد پہلا انسانی مشن ہے جو چاند کے مدار کی طرف بھیجا گیا ہے۔

یکم اپریل 2026 کو فلوریڈا کے وقت کے مطابق شام 6:35 بجے، کینیڈی اسپیس سینٹر کے پیڈ 39B سے SLS راکٹ نے فضاؤں کو چیرتے ہوئے بلند پرواز کی۔ راکٹ کی روانگی کے وقت زمین لرز اٹھی اور آسمان نارنجی روشنی سے بھر گیا۔ یہ مشن اورین (Orion) خلائی جہاز کو لے کر روانہ ہوا ہے، جس میں چار خلا باز سوار ہیں۔

آرٹیمس 2 ایک 10 روزہ آزمائشی مشن ہے جس کا مقصد چاند پر اترنا نہیں، بلکہ اس کے گرد چکر لگا کر زمین پر بحفاظت واپس آنا ہے۔ اس مشن کے اہم اہداف درج ذیل ہیں:

لائف سپورٹ سسٹم کی جانچ: پہلی بار انسانوں کی موجودگی میں اورین جہاز کے آکسیجن، درجہ حرارت اور دیگر حفاظتی نظاموں کا امتحان لیا جا رہا ہے۔

چاند کے گرد چکر: خلا باز چاند کے اس حصے (Far Side) کا نظارہ کریں گے جو زمین سے نظر نہیں آتا۔

مستقبل کی بنیاد: یہ مشن 2027-28 میں چاند کی سطح پر انسانوں کو اتارنے (Artemis III) کے لیے ایک پل کا کردار ادا کرے گا۔

اس مشن کی خاص بات اس کا متنوع عملہ ہے، جس میں پہلی بار صنفی اور نسلی امتیاز سے بالاتر ہو کر ماہرین کو شامل کیا گیا ہے:

ریڈ وائزمین (Reid Wiseman): مشن کمانڈر (ناسا)

وکٹر گلوور (Victor Glover): پائلٹ (پہلے سیاہ فام خلا باز جو چاند کے سفر پر روانہ ہوئے)

کرسٹینا کوچ (Christina Koch): مشن اسپیشلسٹ (پہلی خاتون جو چاند کے مدار تک جا رہی ہیں)

جیریمی ہینسن (Jeremy Hansen): مشن اسپیشلسٹ (کینیڈین خلائی ادارہ – پہلے غیر امریکی خلا باز)

مشن کے دوسرے دن، اورین جہاز اپنے انجن فائر کر کے زمین کے مدار سے نکل کر چاند کی طرف اپنے سفر (Trans-Lunar Injection) کا آغاز کرے گا۔ خلا بازوں کو چاند تک پہنچنے میں چند دن لگیں گے، جہاں وہ سطح سے تقریباً 7,400 کلومیٹر کے فاصلے سے گزریں گے۔

خلائی ماہرین کا کہنا ہے کہ آرٹیمس 2 کی کامیابی صرف ناسا کی جیت نہیں بلکہ پوری انسانیت کی کامیابی ہے۔ یہ مشن ثابت کرے گا کہ انسان اب صرف زمین کا قیدی نہیں رہا، بلکہ مریخ اور اس سے آگے جانے کے لیے تیار ہے۔