بینظر انکم سپورٹ کی رقم میں بڑا اضافہ

رقم 19,500 روپے تک پہنچ جائے گی۔ یہ اقدام غریب اور کم آمدنی والے طبقات پر مہنگائی کے اثرات کو کم کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔

               
April 2, 2026 · قومی

 اسلام آباد: پاکستان نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) کو یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ ایندھن کی سبسڈی کے معاملے میں موجودہ مالیاتی حد تک عمل درآمد کرے گا اور اضافی بچت کی صورت میں قیمتوں میں تبدیلی کرے گا۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں کیا گیا جب ملک میں ایندھن، بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ مہنگائی کی شرح کو گزشتہ ڈیڑھ سال کی بلند ترین سطح 7.3 فیصد تک لے گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے آئندہ سال جنوری سے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) کے تحت مستحقین کو سہ ماہی وظیفے میں 35 فیصد اضافے کی شرط عائد کی ہے، جس سے رقم 19,500 روپے تک پہنچ جائے گی۔ یہ اقدام غریب اور کم آمدنی والے طبقات پر مہنگائی کے اثرات کو کم کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔

وفاقی حکومت نے ایندھن کی سبسڈی کو عارضی قرار دیتے ہوئے بتایا کہ یہ سبسڈی صرف تب تک جاری رہے گی جب تک بجٹ میں اضافی مالی بچت کی نشاندہی نہیں ہوتی۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے مشرق وسطیٰ میں تنازع کے بعد پیٹرول پر ابتدائی 20 فیصد اضافہ کیا، تاہم حکومت اب بھی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے مختلف مالی اقدامات کر رہی ہے، جن میں سرکاری گاڑیوں کے فیول الاؤنسز میں کمی اور ترقیاتی بجٹ میں ترمیم شامل ہے۔

پاکستان بیورو آف شماریات (PBS) کے مطابق مارچ میں مہنگائی کی شرح 7.3 فیصد ریکارڈ کی گئی، جو 17 ماہ کی بلند ترین سطح ہے۔ غذائی اشیاء کی افراط زر کم ہوئی، مگر غیر خوراکی اور توانائی کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا، جس میں گیس 23 فیصد، پیٹرول 18 فیصد اور بجلی 14 فیصد مہنگی ہوئی۔

بی آئی ایس پی کے حوالے سے ذرائع نے بتایا کہ جنوری 2027 سے پروگرام کے تحت ہر خاندان کو 19,500 روپے دیے جائیں گے، جبکہ مالی سال 2026 کے اختتام تک مزید 2 لاکھ خاندان شامل کیے جائیں گے۔ حکومت نے آئی ایم ایف کو تحریری طور پر یقین دہانی بھی کرائی ہے کہ پروگرام کے تحت مستفید ہونے والے گھرانوں کی تعداد بڑھتی رہے گی۔

 

اس اقدام سے نہ صرف آئی ایم ایف کی تشویش دور ہوئی بلکہ ملک میں ایندھن کی قیمتوں کو مستحکم رکھنے کے لیے مالیاتی حکمت عملی بھی مضبوط ہوئی ہے۔