’’کام مکمل‘‘کرنے کا پیچیدہ اور پرخطر امریکی منصوبہ حتمی مراحل میں داخل
یہ کارروائی جدید تاریخ کی سب سے پیچیدہ فوجی مہمات میں سے ایک ہوگی۔واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ
یو ایس نیوی سیل
امریکی صدرکی طرف سے’ کام مکمل ‘ کرنے کے منصوبے کو حتمی شکل دی جارہی ہے،جو ایرانی افزودہ یورینیم نکالنے کا ہفتوں پر محیط طویل آپریشن ہوسکتاہے۔صدرڈونلڈٹرمپ نے قوم سے خطاب میں کہا کہ ایران میں کام مکمل کررہے ہیں، جس کے بعد 2 سے 3 ہفتوں میں جنگ ختم ہوسکتی ہے۔
امریکی انتظامیہ ایران کے اعلیٰ درجے کے افزودہ یورینیم کے ذخیرے پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے ایک خصوصی فوجی کارروائی پر غور کر رہی ہے۔واشنگٹن پوسٹ کے مطابق یہ منصوبہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی براہِ راست ہدایت پر پیش کیا گیا ہے، جس میں خصوصی افواج کو ایران کے اندر داخل کرنا شامل ہے۔ان کے ساتھ بھاری کھدائی کا سامان بھی ہوگا تاکہ جوہری مواد نکال کر فضائی راستے سے ملک سے باہر منتقل کیا جا سکے۔
یہ کارروائی جدید تاریخ کی سب سے پیچیدہ فوجی مہمات میں سے ایک ہوگی، جس کے لیے سینکڑوں یا ہزاروں فوجیوں کی تعیناتی، ایران کے اندرونی مقامات کا کنٹرول اور ایرانی افواج کے براہِ راست خطرے کے درمیان کئی ہفتوں تک آپریشن جاری رکھنا ہوگا۔
سابق امریکی محکمہ دفاع کے اہلکار اور سی آئی اے کے سابق افسر مِک مولروی کے مطابق ،اس میں فوجیوں کے لیے بڑے خطرات شامل ہیں۔
سابق عہدیداروں نے اس کارروائی کو انتہائی پیچیدہ قرار دیا، جس کا آغاز ایرانی دفاعی نظام پر حملے سے ہوگا، اس کے بعد زمینی فوج کو مقامات کو محفوظ بنانے، عارضی رن ویز بنانے اور ضروری ساز و سامان منتقل کرنے کے لیے داخل کیا جائے گا، جوہری خطرات کا اندازہ لگانے کے لیے ماہرین کو بھی شامل کیا جائے گا۔
یہ کارروائی زیادہ تر ایک چھوٹے فوجی اڈے کی مانند ہوگی نہ کہ ایک تیز اور خفیہ مشن اور اس میں تابکاری کے خطرات، ممکنہ دھماکہ خیز مواد اور تنصیبات کے اندر پیچیدہ ماحول جیسے چیلنج شامل ہیں۔ کارروائی ہفتوں تک جاری رہ سکتی ہے، ماضی میں ہونے والی کارروائیاں، جیسے اسامہ بن لادن کے قتل کی کارروائی، صرف چند گھنٹوں میں مکمل ہو گئی تھیں۔
دوسری طرف امریکی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ایسی منصوبہ بندی فوجی آپشنزمیں میں شامل ہے اور اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس پر عمل درآمد کا حتمی فیصلہ ہو چکا ہے۔
بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے مطابق ایران کے پاس تقریباً 970 پاؤنڈ افزودہ یورینیم موجود ہے، جس میں 60 فیصدتک کی افزودگی ہے، یعنی وہ سطح جو ہتھیار بنانے میں استعمال کی جاتی ہے۔ اس کا بڑا حصہ زیرِ زمین تنصیبات میں محفوظ کیا گیا ہے، خاص طور پر اصفہان اور نطنز میں۔ماہرین کے مطابق اس مواد تک پہنچنے کے لیے کنکریٹ اور دفاعی ڈھانچوں کو توڑنا ہوگا، خصوصی آلات استعمال کرنے ہوں گے اور پھر اسے فضائی راستے سے منتقل کرنا ہوگا، جو ہفتوں یا حتیٰ کہ مہینوں تک جاری رہنے والی پیچیدہ کارروائی ہے۔