سوشل میڈیا پر 50 ہزار فالوورز رکھنے والوں کو ٹیکس دینا ہوگا

رہائشی اور غیر رہائشی دونوں افراد جو پاکستان میں ویورشپ، اشتہارات یا سبسکرپشنز سے کمائی کرتے ہیں، اس قانون کے دائرے میں آئیں گے۔

               
April 2, 2026 · قومی

اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سوشل میڈیا سے ہونے والی آمدنی کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے نئے ڈرافٹ قواعد متعارف کرا دیے ہیں، جن کے تحت 50 ہزار سے زائد سبسکرائبرز رکھنے والے یوٹیوبرز اور انفلوئنسرز کو ٹیکس دینا ہوگا۔

تفصیلات کے مطابق ایف بی آر نے مجوزہ ترامیم کے ذریعے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز جیسے یوٹیوب اور دیگر ڈیجیٹل چینلز سے حاصل ہونے والی آمدنی کو باقاعدہ ٹیکس فریم ورک میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اقدام کے تحت ایسے اکاؤنٹ ہولڈرز کو کاروبار کے زمرے میں شمار کیا جائے گا اور ان کی کمائی پر ٹیکس لاگو ہوگا۔

ڈرافٹ قواعد کے مطابق ٹیکس قابل آمدنی کا تعین کل آمدنی سے 30 فیصد اخراجات منہا کرنے کے بعد کیا جائے گا، جبکہ رہائشی اور غیر رہائشی دونوں افراد جو پاکستان میں ویورشپ، اشتہارات یا سبسکرپشنز سے کمائی کرتے ہیں، اس قانون کے دائرے میں آئیں گے۔

ایف بی آر نے یوٹیوب آمدنی کے لیے ایک مخصوص فارمولا بھی تجویز کیا ہے، جس کے تحت فی ہزار ویوز پر مقررہ ریونیو کے حساب سے آمدنی کا اندازہ لگایا جائے گا، اور اس میں وقتاً فوقتاً تبدیلی بھی کی جا سکتی ہے۔

مجوزہ قواعد کے تحت ڈیجیٹل کریئیٹرز کو سہ ماہی بنیادوں پر ایڈوانس انکم ٹیکس ادا کرنا ہوگا، جبکہ سالانہ ٹیکس ریٹرن میں بھی اپنی آمدنی ظاہر کرنا لازمی ہوگا۔ اگر ظاہر کردہ آمدنی مقررہ فارمولے سے کم ہوئی تو ٹیکس حکام فرق کی وصولی کر سکیں گے۔

مزید برآں، غیر ملکی یوٹیوبرز اور ڈیجیٹل کریئیٹرز بھی اس نظام کے تحت آئیں گے، اگر ان کی پاکستانی صارفین کے ساتھ مصروفیت مخصوص حد سے تجاوز کرے۔

یہ اقدام حکومت کی جانب سے ڈیجیٹل معیشت کو دستاویزی شکل دینے اور ٹیکس دائرہ کار کو وسیع کرنے کی کوشش کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔