حکومت نے آئی ایم ایف سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھانے کا وعدہ کر لیا
تیل، بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے مہنگائی گزشتہ ماہ میں ڈیڑھ سال کی بلند ترین سطح 7.3 فیصد تک پہنچ گئی۔
فائل فوٹو
اسلام آباد: پاکستان نے آئی ایم ایف کے ساتھ پٹرولیم قیمتیں بڑھانے کا وعدہ کر لیا، بجٹ میں مالیاتی گنجائش نہ ہو نے پرقیمتوں میں اضافہ کر دیا جائیگا،دوسری طرف تیل، بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے مہنگائی گزشتہ ماہ میں ڈیڑھ سال کی بلند ترین سطح 7.3 فیصد تک پہنچ گئی۔
نجی ٹی وی ایکسپریس نیوز کے مطابق حکومت نے عالمی مالیاتی فنڈ کو آگاہ کیا کہ پٹرول اور ڈیزل پر دی جانے والی سبسڈی عارضی ہے اور یہ تب تک جاری رہے گی جب تک بجٹ میں مالیاتی گنجائش کی نشاندہی نہیں ہو جاتی، ایندھن کی قیمتوں کو برقرار رکھنے کے لیے مزید 200ارب کی مالیاتی گنجائش نکالنے کیلیے صوبوں سے بات چیت کی جا رہی ہے۔
حکام نے آئی ایم ایف کو آگاہ کیا کہ بجٹ میں زیادہ سبسڈی سے بچنے کے لیے ایندھن کی قیمتوں میں باقاعدگی سے نظرثانی کی اجازت جاری رہے گی جب تک کہ اضافی گنجائش نہیں نکلتی، حکومت نے سرکاری گاڑیوں کے فیول الاؤنسز میں کمی اور پچھلی سہ ماہی کے غیر تنخواہی اخراجات میں 20 فیصد کمی سے 27 ارب روپے بچائے ہیں وفاقی ترقیاتی بجٹ سے مزید 100 ارب روپے کم کر دیے گئے ہیں۔
تاہم حکومت کے اندر لوگوں کا یہ بھی خیال ہے کہ طلب کو کم کرنے کے اقدام کے طور پر اس جمعہ کو قیمتوں میں کچھ اضافہ کیا جانا چاہیے۔ذرائع کے مطابق ایندھن کی قیمتوں میں 20 فیصد اضافے کے باوجود گزشتہ ماہ کھپت میں کوئی کمی نہیں ہوئی کیونکہ نہ تو عوام اور نہ ہی حکومت نے خود نظم و ضبط کا مظاہرہ کیا۔
حکومتی ذرائع نے بتایا کہ 1.2 بلین ڈالر کے قرض کی اقساط کی سیٹلمنٹ کے لیے اسٹاف لیول سطح پر مشروط معاہدے تک پہنچنے سے پہلے آئی ایم ایف کو قیمتیں بڑھانے کی یقین دہانی کرائی گئی تھی۔اس سلسلے میں ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی عدالتی مقدمات سے 322 ارب روپے ریونیو کمانے کی صلاحیت سے مشروط ہے۔