صدر ٹرمپ کا عوام سے خطاب اور امریکی سامراج کا مستقبل

جو ریاست دوسری اقوام کا استحصال کرتی ہو، وہ اپنی عوام کو بھی کسی طرح مطمئن نہیں رکھ سکتی۔

               
April 3, 2026 · کالم
فوٹو امریکی میڈیا

فوٹو امریکی میڈیا

تحریر: کامران خان ستی

یہ بات تو روز روشن کی طرح عیاں سے کہ جب بھی کسی ملک کی بنیادوں میں دوسری اقوام کا استحصال، قتل و غارت اور ظلم و استبداد کارفرما ہو تو، وہ ملک زیادہ دیر تک بام عروج پر نہیں رہ سکتا۔ امریکی سامراج کا نام نہاد عروج اور عالمی غلبہ دوسری اقوام کے خونی استحصال پر قائم رہا ہے اور جو ریاست دوسری اقوام کا استحصال کرتی ہو، وہ اپنی عوام کو بھی کسی طرح مطمئن نہیں رکھ سکتی۔

صدر ٹرمپ کا خطاب سن کر یوں لگا جیسے وہ ہارا ہوا جواری ہے جو اپنی شکست اور خفت کو مٹانے کیلیے فریب کاری، دھمکیوں اور جھوٹ کا سہارا لے رہا ہے۔ امریکہ کے ایران پر جنگ مسلط کرنے اور ایران کی مزاحمت نے عالمی دنیا پر پانچ بڑے نتائج مرتب کیے ہیں۔ غیر متوازن، بے ربط اور زمینی حقائق سے نابلد تقریر پر امریکہ سمیت دنیا بھی کی عوام مایوسی اور غم و غصے کا شکار ہے۔ امریکہ و اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ میں شکست اور امریکہ کے ڈوبتے انسانیت دشمن جہاز نے صدر ٹرمپ کو پاگل کر دیا ہے۔

۱- امریکہ عالمی سطح پر تنہا ہو چکا ہے جس کو اس کے پرانے اتحادیوں نے بھی چھوڑ دیا ہے۔ سرد جنگ کے دوران قائم ہونے والا انسانیت دشمن اور سامراجی فوجی اتحاد نیٹو عملی طور پر ٹوٹ چکا ہے جس کی وجہ سے عالمی سامراج کا ورلڈ آرڈر بھی آخری سانسیں لے رہا ہے۔

۲- ایران کی دلیرانہ مزاحمت اور قومی لیڈرشپ کی قربانیوں نے ایران کا وقار پوری دنیا میں بلند کیا اور ایران مشرق وسطیٰ میں سب سے بڑی فوجی طاقت بن کر ابھرا۔ اس جنگ نے امریکہ کو غرور خاک میں ملایا اور تیسری دنیا میں سامراج کے خلاف مزاحمتی تحریکات کو اس سے یقینا مہمیز میسر آئی۔

۳- آبنائے ہرمز کی بندش اور پاسداران انقلاب کی کامیاب فوجی حکمت عملی سے مشرق وسطیٰ میں Petro-dollar نظام کی جگہ Petro-Yuan نظام کی بنیاد ڈالی گئی جو ڈالر کی عالمی بالادستی کیلئے بہت بڑا جھٹکا ہے نیز BRICS PLUS کے مالیاتی نظام کیلئے اب تک کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔

۴- آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تیل، گیس اور دیگر اشیا سے بھرے بحری جہازوں سے ٹیکس وصولی کی مد میں ایران کو سالانہ ایک سو ارب ڈالرز وصول ہوں گے جو ایران کیلئے خوشحالی اور فوجی طاقت کا مظہر ثابت ہو گا۔ اگر اس مالیاتی نظام میں اومان سمیت دیگر خلیجی ممالک کا شامل ہونا زیادہ خوش آئندہ اور طویل مدتی ثابت ہو گا۔

۵- خلیجی ممالک اور انُکے وسائل پر امریکی سامراج کے ان کو سیکورٹی فراہم کرنے کے فریب کی حقیقت بھی دنیا کیلئے بالعموم اور ان ممالک کیلئے بالخصوص عیاں ہو گئی۔ امریکہ ان ممالک کو ان کے وسائل اور سیاسی و معاشی آزادی گروی رکھ بھی سیکیورٹی دینے میں ناکام رہا۔ نیز ان ممالک کے سامنے یہ حقیقت بھی روز روشن کی طرح عیاں ہو گئی کہ امریکہ تمام خلیجی ممالک کے مقابلے میں اسرائیل کو سیکورٹی دینے میں زیادہ دلچسپی رکھتا ہے کیونکہ اسرائیل مشروق وسطیٰ پر سامراجی قبضے اور ریشہ دوانیوں کیلیے انسانیت دشمن مورچہ ہے۔