اسلام آباد میں تاجر کے قتل میں’’بلٹ پروف گینگ‘‘ملوث نکلا۔ شناختی پریڈ کا عمل مکمل
پولیس کا دعویٰ ہےکہ عامراعوان کو ڈکیتی کے دوران مزاحمت کرنے پر قتل کیا گیا تھا۔
اسلام آباد کی پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ کاروباری شخصیت عامر اعوان کے قتل کے سلسلے میں گرفتار ملزمان کی اڈیالہ جیل میں شناخت پریڈ کا عمل مکمل کر لیا گیا ہے۔
وفاقی پولیس کا دعویٰ ہے کہ وقوعہ کی شب عامر اعوان کے فارم ہاؤس میں موجود اُن کے ملازمین نے، جن سے مسلح افراد نے اسلحہ چھین کر یرغمال بنایا تھا، حراست میں لیے گئے مبینہ ڈاکوؤں کو شناخت کر لیا ہے۔
یاد رہے کہ 30 مارچ کو رات تقریباً ڈھائی بجے بُلٹ پروف جیکٹس پہنے نامعلوم ملزمان نے عامر اعوان کو اُن کے فارم ہاؤس میں فائرنگ کر کے قتل کر دیا تھا۔
پولیس کا دعویٰ ہے کہ عامر اعوان کو ڈکیتی کے دوران مزاحمت کرنے پر قتل کیا گیا تھا۔
اس واقعے سے متعلق سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ پانچ اسلحے سے لیس نامعلوم افراد عامر اعوان کے گھر میں داخل ہوتے ہیں۔ ملزمان نے اس موقع پر بُلٹ پروف جیکٹس بھی پہن رکھی تھیں۔
اس قتل کا مقدمہ شہزاد ٹاؤن تھانے میں عامر اعوان کی بیوہ کی مدعیت میں درج کیا گیا تھا۔
یہ واقعہ پیش آنے کے اگلے ہی روز اسلام آباد کی انسپیکٹر جنرل (آئی جی) ناصر رضوی اور وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے ایک پریس کانفرنس میں اس قتل میں ملوث ملزمان کی گرفتاری کا دعویٰ کیا اور کہا کہ اس واردات میں ’منصور خان گروپ‘ ملوث ہے، جسے ’بُلٹ پروف گینگ‘ بھی کہا جاتا ہے۔
یہ پہلی مرتبہ تھا کہ اسلام آباد میں جرائم پیشہ افراد کے اِس گروپ کا نام سُنا گیا تاہم قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مطابق اُن کے لیے یہ نام نیا نہیں تھا۔